Talatum Khaiz Mojoon Se Hum Ghabraya Nahi Karte

تلاطم خیز موجوں سے ہم گھبرایا نہیں کرتے‎

بدھ جولائی

Talatum Khaiz Mojoon Se Hum Ghabraya Nahi Karte
عمائمہ طارق
مجلس مباحثہ جامعہ کراچی نے ہمیشہ کی طرح اپنی روایات برقرار رکھیں اور عالمی وباء،كورونا وائرس کے مشکل حالات میں بھی طالبعلموں کو فن تقریر و خطابت کے ہنر سے مستفید کرتے رہی ۔عالمی وباء کی شروعات میں ہی ابھی جب کہ پاکستان بھر کی جامعات نے آن لائن کلاسز کا لائحہ عمل تیار نہ کیا تھا مجلس مباحثہ جامعہ کراچی نے "آن لائن پبلک سپیکنگ کورس" کو متعارف کروایا جس کے ذریعے اردو اور انگریزی زبانوں میں تقاریر، مباحثہ، منظر نگاری کی آن لائن کلاسز دی گئیں ان کلاسز میں پارلیمانی مباحثہ اور MUN کی ٹریننگ کا اہتمام کرتے ہوے ۴۰۰ سے زائد طلبہ و طالبات کو بہرہ مند کیاکرونا وائرس کے باعث جہاں تمام شعبہ ہائے زندگی منجمد ہوکر رہ گئے ہیں اور نوجوانوں میں کشمکش اور مستقبل کے حوالے سے بے چینی و اضطراب نظر آتا ہے وہیں مجلس مباحثہ نے اس مسئلہ کا ادراک کرتے ہوئے اپنے ممبران کی حوصلہ افزا کہانیاں شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ اس کے ذریعے نہ صرف ممبران بلکہ قارئین کی بھی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

(جاری ہے)

مختلف ٹی وی چینلز کی رمضان ٹرانسمیشن میں ہونے والے تقریری مقابلوں میں طلبہ و طلبات کی بڑی تعداد نے نہ صرف حصہ لیا بلکہ سیمی فائنل اور فائنل میں پہنچ کر کامیابی کا سہرا اپنے سر سجايا جن میں حسن مرزا ،دعا ضیاء ،حفصہ قنوج،وریشاء فاطمہ اور سئیر محمود کا نام سر فہرست ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی تقریری اور منظر نگاری مقابلہ جیتے گئے جن کی نمائندگی ادینا شعیب اور سارہ اقبال نے کی۔

قومی سطح پر بھی مایاناز فتوحات حاصل کیں جن میں عامر شیخ، محسن احمد اور حسن مرزا شامل ہیں مجلس مباحثہ کی کاوشوں میں ایک نمایاں کاوش یہ بھی تھی کہ اس نے پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کی جامعات کے طالبعلموں کے ذریعے مختلف زبانوں میں کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر بیان کیں۔ کورونا وائرس میں ہی مثبت رہنے پر ذور دیتے ہوئے "یہ وقت بھی گزر جائے گا" نامی ٹرینڈ کا آغاز کیا جس میں طلبہ و طالبات نے بھر پور شرکت کی ۔

اس کے ساتھ ساتھ مجلس مباحثہ جامعہ کراچی نے مختلف آن لائن سیشن کا انعقاد کیاجن میں مختلف موضوعات جیسے معاشرے میں Bullying Culture ،سائنس اور مسّلم میراث ، خواتین اور خطابت جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی جن کی میزبانی علیزہ فاطمہ،لبنیٰ ناز اور حفصہ طاہر نے کی ۔حارث عامر ویمن ڈیجیٹل نامی بین الااقوامی پروگرام میں جامعہ کراچی اور مجلس مباحثہ کی نمائیندگی کرتے ہوئے 96 ممالک کے ابھرتے ہوئے نوجوان میں شامل ہوئے۔

طلبہ و طلبات کی بڑھتی ہوئی پریشانی اور اضطرابیت کے پیش نظر جامعہ کےاسٹوڈنٹ ایڈوائزر ڈاکٹر سید عاصم علی کے ساتھ آن لائن سیشن کا اہتمام کیا گیا جس میں آن لائن کلاسز کس طرح اور کیسے لی جائیں گی پر گفتگو کی گئی جس کی میزبانی مجلس مباحثہ کے صدر محمد عمار عباسی نے کی۔ مجلس مباحثہ نے کوڈ-۱۹ کو اپنے لیے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور بہت سی مشکلات کے باوجود ہمت نہ ہارتے ہوے ایک ایسی مثال قائم کی جسے جتنی ستائش ملے کم ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2020-07-29

Your Thoughts and Comments