X

2 ڈالر مالیت کی دہی چرانے والے چورکو پکڑنے کے پولیس نے ڈی این اے ٹسٹ پر 600 ڈالر خرچ کر دئیے

تائیوان کے شہر تائپے میں  پولیس پر احمقانہ کیس حل کرنے کے لیے ٹیکس ادا کرنے والوں کے پیسے ضائع کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ مقامی میڈیا کے  مطابق پولیس نے حال میں ایک کیس حل کرنے کے لیے 600 ڈالر ڈی این اے ٹسٹ پر خرچ کر دئیے۔ یہ ڈی این اے ایک  طالبہ کی 2 ڈالر کی دہی چرا کر پینے  والے چور کی تلاش کے لیے کیے گئے تھے۔
عام طور پر کالج میں روم میٹس کے ساتھ مل کر فریج استعمال کرنے پر کبھی کبھار آپ کے لذیذ کھانے غائب بھی ہوجاتے ہیں۔

ہاسٹل کی زندگی میں یہ عام چیز ہے، جس پرکوئی زیادہ اعتراض نہیں کرتا۔
تائیوان کے شہر تائپے میں چائنیز کلچر یونیورسٹی میں پڑھنے والی ایک عورت ایک مکان میں دیگر پانچ عورتوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ پچھلے ماہ اس خاتون کے فریچ سے 2 ڈالر مالیت کی دہی استعمال ہوگئی تو اس نے ہر قیمت پر مجرم کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔


یہ خاتون ایک دن اپنے گھر آئی تو اپنی دہی کی خالی بوتل کو کچرے کے ڈبے میں پڑے دیکھا۔

اس خاتون نے ڈبہ اٹھایا اور دیگر عورتوں سے پوچھا کہ کس نے بوتل سے دہی استعمال کی ہے۔ جب کسی عورت نے اقرار نہیں کیا تو اس عورت نے پولیس کو بلا لیا اور باضابطہ تحقیقات کے بعد مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
دنیا کے کسی اور خطے میں ایسا ہوتا تو پولیس نے اس عورت، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کو یہی بتانا تھا کہ یہ پولیس کا معاملہ نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس عورت کو پولیس کا وقت ضائع کرنے پر گرفتار ہی کر لیا جاتا۔

تاہم تائپے پولیس نے اس کیس کا حل کرنے کی ٹھان لی اور اس کے حل کے لیے سینکڑوں ڈالر خرچ کر دئیے۔
پولیس نے پہلے تو تمام خواتین سے پوچھ گچھ کی، بوتل سے انگلیوں کے نشان تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں اس میں ناکامی ہوئی۔ اس پر پولیس نے چوری کا الزام عائد کرنے والی عورت سمیت تمام 6 خواتین کے فارنزک ڈی این اے کا فیصلہ کیا۔ اس تمام عمل پر پولیس کے 585 ڈالر خرچ ہوئے لیکن رپورٹ میں مجرم کے گرفتار ہونے یا نہ ہونے کا نہیں بتایا گیا۔
اس کیس کے بارے میں خبریں وائرل ہونے پر لوگوں نے عوامی پیسے کے ضیاع پر پولیس پر کافی تنقید کی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو پیسے ضائع کرنے کی بجائے عورت کو 2 ڈالر کا دہی خرید کر دے دینا چاہیے تھا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب یہ عورت اتنا سا نقصان برداشت نہیں کر سکتی تو اسے یہ گھر ہی چھوڑ دینا چاہیے تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں