غیر فعال چیف جسٹس کی نقل و حرکت پر پابندی مناسب اقدام نہیں تھا۔ شیخ رشید احمد۔۔ بھارت نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں جاں بحق ہونے والے 38 پاکستانیوں کے نام دیئے ہیں جبکہ دفنائے گئے افراد کی تعداد اس سے کافی کم ہے، بین الاقوامی حالات کے مطابق پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے، عدالت کا معاملہ عدلیہ پر چھوڑ دیا جائے ۔پریس کانفرنس سے خطاب

بدھ مارچ 20:08

اسلام آباد (اردوپوئنٹ تازہ ترین اخبار14 مارچ2007) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی نقل و حرکت پرپابندی اوران کے بچوں کو سکول جانے سے روکنا مناسب اقدام نہیں تھا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، بھارت نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں جاں بحق 38 پاکستانیوں کے نام دیئے ہیں جبکہ دفنائے گئے افراد کی تعداد اس سے کافی کم ہے، بین الاقوامی حالات کے مطابق پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے رزیہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شیخ رشید نے کہا کہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار چوہدری کی نقل و حرکت پر پابندی، ان کے بچوں کو نظر بند رکھنا اور سکول جانے سے روکنا مناسب اقدام نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے حوالے سے جوبھی قدم اٹھایا گیا ہے وہ آئین اور قانون کے مطابق ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کا جو رویہ آئی جیز اور چیف سیکرٹریز کے حوالے سے تھا وہ سب کے سامنے ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ رانا بھگوان داس 23 مارچ کو وطن واپس آئیں گے اورایک آئینی عمل ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی حالات کے مطابق پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے عدالت کا یہ جو معاملہ ہے وہ عدلیہ پر چھوڑ دیا جائے عدالت کو چوک اور چوراہوں میں نہ گھسیٹا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اسے سیاسی ایشو بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ جس طرح کے حاالت ہیں قومی ہم آہنگی اور اتفاق کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم شوکت عزیز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ مختصر نہیں ہوا ہے بلکہ وہ شیڈول کے مطابق واپس آ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ بھارت نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں جاں بحق ہونے والے 38 افراد کے پاسپورٹ دیئے ہیں انہیں تصدیق کیلئے وزارت داخلہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔