حقوق ٹیچر ز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام غیر اعلانیہ تبدیلی و اساتذہ کو نئے کورسز پر ٹرینڈ نہ کرنے کے خلاف مظاہرہ

پیر اگست 22:10

تربت( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24 اگست۔2015ء ) حقوق ٹیچر ز ایسوسی ایشن نے آغاز حقوق پیکج کے تحت بھرتی ایس ایس ٹیز کے کو گریڈ 17نہ دینے، تین سالہ سروس کو شمار نہ کرنے اور نصاب میں غیر اعلانیہ تبدیلی و اساتذہ کو نئے کورسز پر ٹرینڈ نہ کرنے کے خلاف پیر کے روز تربت پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا جس کی حمایت کرتے ہوئے وط ٹیچر ایسوسی ایشن نے بھی شرکت کی۔

مظاہرے میں شامل اساتذہ نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ایچ ٹی اے کی جانب سے منعقد احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایچ ٹی اے کے ضلعی صدر شاہ جہان بلوچ نے کہاکہ بیورروکرسی اور حکومت ایک ساز ش کے تحت اساتذہ کو آپس میں لڑا کر ان کی قوت منتشر کررہی ہے تاکہ اساتذہ اپنے اصل مسائل سے بیگانہ ہو جائیں انہوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم میں اس وقت ایس ایس ٹیز کا گریڈ17رکھا گیا ہے مگر جان بوجھ کر ایچ ٹی اے سے وابستہ اساتذہ کو ایس ایس ٹی ہونے کے باوجود گریڈ 17نہیں دیا جارہا جو نہ صرف قابل مذمت بلکہ حیران کن عمل ہے کیوں کہ ایس ایس ٹی کی پوسٹ اپ گریڈ ہو کر16کے بجائے اب 17کردی گئی ہے اور یہ گریڈ اس پوسٹ کے لیئے محکمہ تعلیم میں موجود نہیں ہے مگر معلوم نہیں حکومت پیکج کے تحت بھرتی شدہ اساتذہ کی پوسٹ اپ گریڈ کرنے سے کیوں گریزاں ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ اساتذہ کو مل کر اپنی قوت ایک کرنی چاہیے ایچ ٹی اے تمام ایسو سی ایشنز کو اکھٹے جدوجہد کی دعوت دیتی ہے کیوں کہ جب تک مل کر جدوجہد کا راستہ اختیار نہیں کیا تو حکومت اور بیوروکریسی اساتذہ کو مختلف مسائل میں الجھائینگے۔ مظاہرہ سے وطن ٹیچر ایسوسی ایشن کیچ کے صدر مفتی سعید احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم تعلیم کی بہتری اور نظام کی اصلاح کے لیئے ایچ ٹی اے کے ساتھ ہیں جو مسائل آج ایچ ٹی اے کو درپیش ہیں وہ ہمارے مشترکہ مسائل ہیں کیوں کہ محکمہ تعلیم میں کام کرنے والے تمام اساتذہ برابر ہیں البتہ جو چند لوگ سیاسی دم چھلہ بنے اساتذہ یونین کا نام استعمال کرتے ہیں ایسے مفاد پرست اور تعلیم دشمن گروہ کے ساتھ یکجا ہونا تعلیم کو تباہ کرنے کے مترادف ہے ہم دیگر اساتذہ کے ایس ایس ٹی کے ساتھ ایچ ٹی اے کے ایس ایس ٹیز کو گریڈ 17دینے کا مطالبہ کرتے ہیں بلکہ ہماری مرکز نے اس معاملے میں کافی جدوجہد کی ہیں اور خری مرحلے تک ایچ ٹی اے کے ساتھ ہونگے انہوں نے کہاکہ پیکج اساتذہ کا نام استعمال کر کے حکومت دراصل ان میں احساس محرومی پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے یہ محکمہ تعلیم میں مستقل اساتذہ ہیں ان کے تین سالہ سروس کی منظوری سمیت دیگر مطالبات کی بھر پور حمایت کرتے ہیں اور اس کے لیئے مکمل جدوجہد کا اعلان بھی کرتے ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ تفریق پیدا کرنے کے بجائے تمام ایس ایس ٹی کو یکساں طور پر گریڈ17دے اور ایچ ٹی اے میں شامل اساتذہ کی تین سالہ سروس بھی منظور کرے جبکہ نصاب میں تبدیلی کا عمل نہ صرف اساتذہ بلکہ طلباء و طالبات پر بھی ظلم ہے حکومت اچانک ہر سال نصاب میں تبدیلی کرتی ہے حالانکہ ایسا کسی بھی معاشرے میں جہاں تعلیم کی مسلمہ حیثیت ہے نہیں کیا جاتا بلکہ نصاب تعلیم کرنے سے پہلے اساتذہ کو آگاہ کر کے انہیں ٹرینڈ کیا جاتا ہے ۔

مظاہرہ سے وطن ٹیچر ایسو سی ایشن کے صوبائی پریس سیکرٹری صالح محمد ،ایچ ٹی اے کے سنیئر رہنما شہزاد احمد اور نائب صدر ندیم احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ تعلیم کی جو صورتحال ہے وہ حیرت انگیز ہے منیجمنٹ کی نااہلی سے لے کر بیوروکریسی کی غفلت تک ہر چیز نظر آتی ہے حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی نعرہ لگاکر تعلیم کا بیڑا غرق کردیا ہے نااہل اور جونیئر ٹیچر کو منیجمنٹ میں انتہائی اہم مناصب پر فائز کردیا گیا جنہیں تعلیمی مسائل سے کوئی دل چسپی نہیں ہے ۔

انہوں نے کہاکہ تربت میں درجنوں اسکولوں کو تعلیمی سیشن شروع ہونے کے باوجود کتب فراہم نہیں کیئے گئے ہیں جبکہ ڈی ڈی او پاور بحالی کے بعد مڈل اسکولوں کے اساتزہ کو بھی جان بوجھ کر تنخواہ کے معاملے میں رلا یا گیا ہے جو قابل افسوس ہے انہوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم کے ایک ہی عہدے پر اساتذہ کو گریڈ وائیز تقسیم کرنا عجوبہ ہے ایس ایس ٹیز کی پوسٹ اپ گریڈ ہوکر16سے17ہوئی مگر معلوم نہیں چند اساتذہ کو گریڈ 17سے کیوں محروم کردیا گیا ہے یہ کیسی تعلیمی ایمرجنسی ہے جس میں اساتذہ کو تین سال تک اپنی مستقلی کے لیئے کلاس رومز کے بجائیے سڑکوں پر دھرنا دینا اور مظاہرہ کرنا پڑتا ہے جبکہ مستقلی کے بعد انہیں دیگر مسائل میں الجھا کر اسکول جانے کے بجائے پھر سڑکوں پر نعرہ بازی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔