پانامہ کا مقدمہ اقامہ پر اختتام پذیر ہو گا تو سوال اٹھیں گے،

پوری دنیا جان چکی ہے کہ اس کا تعلق احتساب سے نہیں بلکہ سیاسی انتقام سے ہے، اس کے باوجود ہم عدالتوں میں پیش ہوئے، جو عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں انہیں گرفتار کیا جاتا ہے لیکن جو سیاسی بھگوڑے ہیں وہ پیش نہیں ہوتے اور انہیں کوئی گرفتار بھی نہیں کرتا، میرا جرم یہ ہے کہ میں نواز شریف کی صاحبزادی ہوں، حسن نواز اور حسین نواز احتساب عدالت میں پیش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ خود کریں گے، ان پر پاکستان کے آئین اور قانون لاگو نہیں ہوتے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو

پیر اکتوبر 14:06

پانامہ کا مقدمہ اقامہ پر اختتام پذیر ہو گا تو سوال اٹھیں گے،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 اکتوبر2017ء) سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ پانامہ کا مقدمہ اقامہ پر اختتام پذیر ہو گا تو سوال اٹھیں گے، پوری دنیا جان چکی ہے کہ اس کا تعلق احتساب سے نہیں بلکہ سیاسی انتقام سے ہے، اس کے باوجود ہم عدالتوں میں پیش ہوئے، جو عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں انہیں گرفتار کیا جاتا ہے لیکن جو سیاسی بھگوڑے ہیں وہ پیش نہیں ہوتے اور انہیں کوئی گرفتار بھی نہیں کرتا، میرا جرم یہ ہے کہ میں نواز شریف کی صاحبزادی ہوں، حسن نواز اور حسین نواز احتساب عدالت میں پیش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ خود کریں گے، ان پر پاکستان کے آئین اور قانون لاگو نہیں ہوتے۔

احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ شدید تحفظات کے باوجود عدالت میں پیش ہوئے ہیں، جس پیٹیشن کو پہلے ناقابل سماعت قرار دیا گیا اس پر ڈیڑھ سال سے مقدمات چل رہے ہیں، پوری دنیا جان چکی ہے کہ اس کا تعلق احتساب سے نہیں بلکہ سیاسی انتقام سے ہے، انہیں اس بارے کوئی صفائی دینے کی ضرورت نہیں، اس طرح کے احتساب اور انتقام کے باوجود ہم عدالتوں میں پیش ہوئے، جو لوگ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں انہیں گرفتار کیا جاتا ہے لیکن جو سیاسی بھگوڑے ہیں، عدالتوں میں ان کا نام پکارا جاتا ہے اس کے باوجود وہ پیش نہیں ہوتے، ایسے عدالتوں سے فرار لوگ جلسے بھی کرتے ہیں اور انہیں کوئی گرفتار بھی نہیں کرتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم پیشیوں اور گرفتاریوں سے گھبرانے والوں میں سے نہیں ہیں، اس سلسلے کا بھی اختتام ہوگا، اس کا انجام قریب ہے۔ انہوں نے کہا میں ابھی عدالتی پیشی بھگت کر آ رہی ہوں، میں جانتی ہوں میرا جرم کیا ہے، میرا جرم یہ ہے کہ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتقام کے باوجود عدالتوں میں پیش ہو کر آئین اور قانون کی پاسداری کر رہے ہیں کہ ممکن ہے کہ آئین اور قانون کا مذاق بنانے والوں کو احساس ہو جائے کہ انہوں نے پاکستان میں کتنی بری روایت قائم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی حسن نواز اور حسین نواز احتساب عدالت میں پیش ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ خود کریں گے، ان پر پاکستان کے آئین اور قانون لاگو نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ طے شدہ فیصلے پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل کیا گیا، اس کے باوجود مقدمات چل رہے ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب تک نواز شریف کے خلاف کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آجاتی جس پر انہیں پکڑا جا سکے، ان مقدمات کا سلسلہ جاری رہے گا، یہ جھوٹے الزامات ہیں جن کا کوئی جواز نہیں، پانامہ کا مقدمہ اقامہ پر اختتام پذیر ہو گا تو سوال اٹھیں گے۔