نوازشریف اپنے کرتوتوں کی وجہ سے دو بار نااہل ہوچکا ہے اور واویلہ کر رہا ہے کہ مجھے کیوں نکالا،پرویزخٹک

نوازشریف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان انتہائی نازک صور تحال سے گزر رہا ہے ، پاکستان کو اٹھاون بلین ڈالر کا مقروض بنادیا ہے،ساری دولت لوٹ کربیرون ممالک منتقل کردی،وزیراعلی خیبرپختونخو

جمعہ فروری 19:28

نوازشریف اپنے کرتوتوں کی وجہ سے دو بار نااہل ہوچکا ہے اور واویلہ کر ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 فروری2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ نوازشریف اپنے کرتوتوں کی وجہ سے دو بار نااہل ہوچکا ہے اور واویلہ کر رہا ہے کہ مجھے کیوں نکالا۔سابق وزیر اعظم نوازشریف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان انتہائی نازک صور تحال سے گزر رہا ہے اور پاکستان پر دہشت گر د ی کے الزامات لگ رہے ہیں۔۔نوازشریف اور اسحاق ڈار نے پاکستان کو اٹھاون بلین ڈالر کا مقروض بنادیا ہے اور کہتے ہیں کہ ہمیں کیوں نکالاساری دولت لوٹ کربیرون ممالک منتقل کردی۔

اے این پی کی قیادت کی بھی یہی صور ت حال ہے ایک دور میں ایز ی لوڈ کلچر اورکرپشن انتہا پر تھی ۔ معصوم شاہ نوٹوں سے بھری بوریاں کہاں لے جارہے تھے۔ اب وہ پھر عوام کو دھوکہ دینے کے لیے نئی ڈگڈگی کے ساتھ آرہے ہیں عوام دھوکہ نہ کھائیں پی ٹی آئی کا جنون 2018 کے عام انتخابات میں ان تمام پارٹیوں کے اتحادوںکو چلتا کردے گا۔

(جاری ہے)

ملک سے رشوت خوروں اور سیاسی ڈاکوئوں کا خاتمہ کئے بغیر خوشحالی نہیں آسکتی۔

پاکستان ایک بہترین ملک ہے جس میں حقیقی فلاحی ریاست بننے کی استعداد اور وسائل موجود ہیں،مگر ایمانداری کا فقدان ہے۔ایک ایماندار قیادت ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے ویلج کونسل ڈھیری کٹی خیل میں بڑے جلسے، پیر پیائی مسکین خیل میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق کونسلر ارشاد خان کی اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت مسلم لیگ ن سے مستعفی ہوکر تحریک انصاف میں شمولیت کے اعلان اور تاروجبہ میں پیر سید کمال شاہ کی طرف سے اپنے مریدوں سمیت تحریک انصاف کی حمایت کے اظہار کے موقع پر منعقدہ جلسوں سے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر میاں جمشید الدین کا کا خیل، ایم این اے ڈاکٹر عمران خٹک، ضلع ناظم لیاقت خٹک، تحصیل ناظم احد خٹک اور وزیر اعلی کے صاحبزادے اسحق خٹک، پی ٹی آئی کے صوبائی رہنما ملک افتاب احمد خان، نائب ناظم اشفاق خٹک، پی ٹی آئی تحصیل نوشہرہ کے صدر زر عالم خان نے بھی جلسے سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بے دریغ کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے دُنیا بھر میں پاکستان کی بد نامی ہوئی۔

قومی مفاد میں فیصلہ سازی وقت کی اشد ضرورت ہے۔اس سلسلے میں مزید غفلت کی گنجائش نہیں ۔ہمیں بحیثیت قوم اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا اور درست فیصلے کرنا ہوں گے ۔یہی عمران خان کا قوم کیلئے پیغام اور تحریک انصاف کا وژن ہے جس پر باشعور عوام خصوصاً نوجوانوں نے بھر پور اعتماد کیا ہے تحریک انصاف نوجوانوں کی جماعت ہے جس کا روایتی سیاسی جماعتوں سے موازانہ نہیں بنتا ۔

ساری جماعتیں متحد ہو کر بھی تحریک انصاف کا مقابلہ نہیں کر سکتیں ۔انھوں نے کہا کہ ترقیاتی کام صوبہ بھر میں جاری ہیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے ، عوام پر احسان نہیں ہے تاہم انہوںنے کہاکہ پاکستان میں بنیادی مسئلہ عوام کو انصاف اور حقدار کو حق کی فراہمی کا ہے جس پر ماضی میں توجہ نہیں دی گئی۔یہی وجہ ہے کہ عوام نے اداروں کی بحالی اور شفاف نظام کیلئے پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد کیا۔

کیونکہ سیاسی مداخلت نے عوامی خدمت کے اداروں کو تباہ کر دیا تھا۔ ایک محدود طبقے کی خوشحالی کیلئے اداروں کو تباہ کرکے کروڑوں عوام کا جینا محال کر دیا گیا تھا۔واحد عمران خان ہے جس نے سرمایہ دار طبقے کی اجارہ داری اور غریب دشمن نظام کے خلاف آواز بلند کی اور ملک گیر سطح پر جدوجہد کا آغاز کیاجس کے ثمرات آج دیکھے جا سکتے ہیں۔ پرویز خٹک نے کہاکہ اشرافیہ کی غریب دشمنی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو بھی مجرم سیاستدانوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر تباہ کیاکیونکہ یہ لوگ چا ہتے ہی نہیں تھے کہ متوسط طبقے سے لوگ آگے آئیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک محدود طبقہ ملکی وسائل سے مستفید ہوتا رہا اور غریب دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور رہا ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کیلئے بنیاد فراہم کرتی ہے مگر ہمارے ہاں ارادة ً ترقی کی اس بنیاد کو کھوکھلا کیا گیا ۔انہوںنے حیرت کا اظہار کیا کہ ماضی میں سرکاری سکولوں کیلئے تھرڈ ڈویژن میٹرک پاس اساتذہ بھرتی کئے گئے جو غریب کے ساتھ بہت بڑا ظلم تھا ۔یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس نے غریب کو معیاری تعلیم اور تربیت کی سہولت فراہم کرنے کیلئے میرٹ پر ہزاروں بھرتیاں کیں آج ایم اے اور ایم ایس سی نوجوان سسٹم کا حصہ بن رہے ہیں۔

ہم نے خیبرپختونخوا میں غریب کیلئے بھی مقابلے کی فضاء پیدا کردی ہے ۔اب پرائیوٹ تعلیمی اداروں سے بچے سرکاری سکولوں میں آرہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ سماجی خدمات کے شعبوں میں دوسرا اہم ترین شعبہ صحت ہے ۔سیاستدانوں نے اس شعبے کی تباہی میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب وہ حکومت میں آئے توسرکاری ہسپتالوں کا برا حال تھا ۔

کل3500 ڈاکٹرزموجود تھے جن میں سے اکثر یت مستقل غیر حاضررہتی تھی ہسپتالوں میں مشینری خراب پڑی تھی اور ڈیلیوری کا سارا نظام مفلوج تھا ۔ہم نے ہنگامی بنیادوں پر ڈاکٹرز اور دیگر متعلقہ سٹاف کی بھرتیاں شروع کیں 4 ہزا رسے زائد مزید ڈاکٹرز بھرتی کئے پاکستان میں یہ واحد صوبہ ہے جس کے تمام اضلاع میں سو فیصد ڈاکٹرز موجود ہیں۔ ہسپتالوں میں زنگ آلود مشینری کو ٹھیک کرکے قابل استعمال بنایا گیا ہے، جبکہ نئی مشینری کی ترسیل کیلئے تین ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے ۔

انہوںنے کہاکہ غریب آدمی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمرجنسی سمیت چند خطرناک بیماریوں کا علاج مفت کیا گیا۔ صحت انصاف کار ڈ کا اجراء صوبائی حکومت کا بہترین پالیسی اقدام ہے جس سے لاکھوں خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پولیس اصلاحات کا بھی حوالہ دیا اور کہاکہ اُن کی حکومت نے شعبہ پولیس سے سیاسی مداخلت کی بیخ کنی کے ذریعے تھانوں میں غریب کیلئے عزت اور انصاف کی بحالی ممکن بنائی۔

پولیس کے بل بوتے پر سیاسی بدمعاشی کا سلسلہ ختم کیا آج خیبرپختونخوا میں بلاوجہ کوئی کسی کو چھیڑ نہیں سکتا اور دوسری طرف مجرم کیلئے کوئی راہ فرار نہیں ہے۔ہم نے جزا اور سزا کا ایک قابل عمل سسٹم تشکیل دیا ہے ۔پرویز خٹک نے رشوت خوری کو معاشرے کیلئے زہر قاتل قرار دیتے ہوئے کہاکہ اسلامی معاشرے میں رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں مگر بدقسمتی سے ماضی میں رشوت خوری کے خاتمے کیلئے کوئی اقدام نہ اُٹھا یا گیا جب ہم حکومت میں آئے تو تمام ادارے رشوت زدہ تھے ۔

رشوت خوری کی صورت میں جہنم کی سرعام خرید وفروخت کا سلسلہ جاری تھا جو ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ تھا ۔ موجودہ صوبائی حکومت نے حرام خوری خصوصاً رشوت کے خاتمے کیلئے قانون سازی کی اور سب سے پہلے احتساب کیلئے خود کو پیش کیا۔ہم نے خیبرپختونخوا میں ایک شفاف نظام کی دیر پا بنیادیں رکھ دی ہیں ، جو ایک شفاف ، خوشحال اور ترقیافتہ پاکستان کی بنیاد بنے گا۔

وزیراعلیٰ نے حکومت کے اسلامی اقدامات کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ نجی سود ، غیر شرعی جہیز کے خلاف قانون سازی ، سکولوں کے درسی نصاب کی درستگی ، ناظرہ و ترجمہ قرآن کا سرکاری سکولوں میں بطور نصاب ،یکم محرم کی چھٹی، مساجد کی سولرائزیشن اور آئمہ مساجد کیلئے اعزازیہ چیدہ اسلامی اقدامات ہیں۔ صوبائی حکومت شروع دن سے اسلامی تعلیمات اور اقدار کے فروغ کیلئے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں علماء نے جو بھی تجاویز دیں اُن پر عمل درآمد کیا گیا۔آئندہ بھی قابل عمل تجاویز پر عمل درآمد میں تاخیر نہیں کریں گے ۔قبل ازیں وزیراعلیٰ نے تاروجبہ میں بزرگ روحانی شخصیت سید نور علی شاہ جیلانی سے ملاقات بھی کی ۔