پاکستان میں پیدا ہونیوالی گیس تمام ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں میں میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کر دی جائے،وزیر اعظم کو خط

تمام ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کو میرٹ پر لوکل کوٹہ اس شرط پر دینے کا مشورہ کہ لوکل کوٹے کیساتھ50 فیصد درآمدی ایل پی جی شامل کر کے تمام کمپنیاں ایک ریٹ نکالیں تا کہ غریب عوام کو پٹرول/ڈیزل سے 50فیصد اور سی این جی سے 10فیصد سستی ایل پی جی میسر رہے‘عرفان کھوکھر

پیر اپریل 16:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) چیئرمین ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن پاکستان فائونڈر ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان ((ایل پی جی چیمبر آف پاکستان)) عرفان کھوکھر نے غیر میعاری سلنڈروں سے ہونے والے دھماکے روکنے اور غریب صارفین کو ایل پی جی کی بلا تعطل سپلائی کو برقرار رکھنے کیلئے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی صاحب کو خط بھجوا دیا۔

عرفان کھوکھر نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 157ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیاں موجود ہیں جو کہ 2018میں 175تک پہنچ جائیں گی۔ صرف 30سے 35 کمپنیوں کے پاس لوکل ایل پی جی کوٹہ موجود ہے جبکہ باقی تمام کمپنیاں مکمل طور پر درآمدی ایل پی جی پر گزارہ کر رہی ہیں۔حکومت ایل پی جی کی لوکل پیداوار تمام 157ایل پی جی مارکیٹکنگ کمپنیوں کو میرٹ کی بنیاد پر مساوی تقسیم کرے بشرطیہ تمام ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیاں لوکل کوٹے کے کم از کم 50 فیصددرآمدی ایل پی جی شامل کر کے ایک قیمت جاری کریں۔

(جاری ہے)

بلا تعطل ایل پی جی کی سپلائی کیلئے ایل پی جی درآمد کو فیزیبل کرنا ہوگا، لوکل پیداواری ایل پی جی اور درآمدی ایل پی جی کی قیمتوں میں موجود فرق کو ختم کرنے کیلئے لوکل ایل پی جی پر لگے لیوی ٹیکس، درآمد پرلگے 5.5فیصد ایڈوانس ٹیکس، ریگولیٹری ڈیوٹی اور دیگر ٹیکس مکمل ختم کر دیے جائیں۔ حکومت تمام ٹیکس ختم کرنے کے بعد صرف ایک ٹیکس کا نفاذ کرے اور جگہ ٹیکس(پریمیم بونس، سگنیچر بونس)ختم کر کے تمام کمپنیوں کو اربوں کی رقم کی مد میں گیس دی جائے اورصرف ایک ٹیکس حکومت اپنے لیے لگائے جس سے فی میٹرک ٹن 10ہزار روپے وصول کرے جو کہ قومی خزانے میں سالانہ تقریباً 12ارب روپے کا اضافہ ہوگا اور غریب عوام کو سستی ترین ایل پی جی ملے گی۔

غریب عوام کو 4سالوں میں ایل پی جی پٹرول اور ڈیزل سے 50فیصد کم قیمت میں دستیاب رہی اور تمام ٹیکسوں میں چھوٹ کے بعد ایل پی جی پٹرول/ڈیزل سے 60فیصد سستی اور سی این جی سے 10فیصد سستی دستیاب ہوگی۔۔پاکستان میں ایل پی جی کی لوکل پروڈکشن روزانہ 2500میٹرک ٹن ہے جو کہ جلد ہی حکومت پاکستان کی کوششوں سے دسمبر 2018ء تک 3000 میٹرک ٹن تک پہنچ جائے گی۔ ڈیمانڈ اور سپلائی میں موجود خلا کو پورا کرنے کیلئے روزانہ 2500 میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کی ضرورت۔

سمری میں غریب عوام کی حفاظت کے مدنظراوگرہ کے منظور کردہ 4اور6کلو مقدار والے گھریلو سلنڈروں کی مارکیٹ میں موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے میعاری اسپیشل گریڈ اسٹیل کی چادروں پر تما م ٹیکس ایک سال کیلئے ختم کرنے کی تجویز بھی دی جس سے عوام کو اوگرہ کے منظور کردہ سلنڈر40%تک سستے دستیاب ہونگے۔اوگرہ کے منظور کردہ سکڈ مائونٹڈ یونٹ لگنے کے بعد بھی ایل پی جی کی سپلائی غریب عوام کو بلا تعطل موجود رہے گی۔۔پاکستان میں ایل پی جی کے بحران سے بچنے کیلئے درآمدی ایل پی جی اور غریب عوام کی حفاظت کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔