آئین کے آرٹیکل دو سو تین پر موثر عمل درآمد کے لئے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر

پیر اپریل 16:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) ضلعی عدلیہ پرملک بھر کی پانچوں ہائیکورٹس کے غیر موثر سپروائزری کردار کے خلاف اور آئین کے آرٹیکل دو سو تین پر موثر عمل درآمد کے لئے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کر دی گئی۔

(جاری ہے)

یہ آئینی درخواست سینئر قانون دان میاں ظفر اقبال کلانوری کی جانب سے دائر کی گئی ہے، پٹیشن میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، سندھ، بلوچستان، اسلام آباد، خیبر پختونخواہ کو فریق بنایا گیا ہے، آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 203کے تحت صوبائی عدلیہ کوضلعی عدلیہ کی مانیٹرنگ کے لئے سپروائزری کردار حاصل ہے، مقدمات کو جلد نمٹانے،ججز اور عدالتی عملے کے خلاف سائلین کی شکایات کے ازالے،ججز کے سروس سٹرکچر کے نفاذ اور ضلعی عدالتوں کیانتظامی امور نمٹانے کے لئے ملک بھر کی کسی ہائیکورٹ نے قواعد نہیں بنائے، درخواست میں کہا گہا ہے کہ قواعد موجود نہ ہونے کی بناء پر ملک بھر میں مقدمات سالہا سال زیر التواء رہتے ہیں، سائلین کی شکایات کے لئے ممبر انسپکشن ٹیم کا کردار غیر موثر اور ڈاکخانہ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے سائلین، وکلاء، ججزاور عدالتی عملے کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ملک بھر کی ہائیکورٹس کو آئین کے آرٹیکل دو سو تین کے تحت موثر سپروائزری کردار ادا کرنے کا پابند بنائے، مزید استدعا کی گئی ہے کہ عدالت تمام ہائیکورٹس کو موثر سپروائزری کردار کی ادائیگی کے لئے قواعد بنانے کے احکامات بھی صادر کرے۔

متعلقہ عنوان :