مقبوضہ کشمیر میں کمسن عاصمہ بانو سے اجتماعی زیادتی اور سفاکانہ قتل ایک دانستہ جرم ہے، بین الاقوامی برادری کو متاثرہ خاندان کی داد رسی کرنی چاہئے، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہے، ہندوستانی مشینری آزادی کیلئے اٹھائی جانے والی آواز کو خاموش کرنے کیلئے جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

پیر اپریل 16:50

اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں8 سالہ عاصمہ بانو سے اجتماعی زیادتی اور سفاکانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک دانستہ جرم ہے جو ہندو جنونیوں نے تقریباً 10 لاکھ گجر اور بکروال خاندانوں کو سزا دینے کیلئے سرزد کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے زیر اہتمام زبانوں کے حوالے سے منعقدہ تیسری بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اس سنگین جرم کے مرتکب تمام افراد کو قانون اور انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہئے اور بین الاقوامی برادری کو متاثرہ خاندان اور متاثرہ برادری کی داد رسی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کا ایسا ماحول ہندوستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں استوار کیا جا رہا ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کو بیدردی کے ساتھ کچلا جائے۔

(جاری ہے)

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور وہاں ہندوستانی مشینری لوگوں کی آزادی کیلئے اٹھائی جانے والی آواز کو خاموش کرنے کیلئے جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے اورجنسی تشدد کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

صدر آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ اگرچہ جموں و کشمیر میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن اپنی تاریخ اور جغرافیائی حیثیت کے بدولت جموں و کشمیر ایک اکائی ہے اور اسے زبان، مذہب اور کلچر کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ جموں وکشمیر کے قضیے کا ایک پرامن اور سفارتی حل جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو ناگزیر ہے، اس سے ہمیں اس خطہ میں باہمی ربط اور اشتراک بحال ہونے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام کشمیری متحد ہیں اور اپنے سیاسی مستقبل کے لئے بر سر پیکار ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے کوالٹی آف ایجوکیشن کے سلسلہ میں اٹھائے جانے والے مؤثر اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص اس طرح کی بین الاقوامی کانفرنسز کا انعقاد کرکے جس میں امریکہ، برطانیہ، پولینڈ، جاپان، فرانس اور مقبوضہ کشمیر کے مندوبین نے شرکت کی، سے مظفرآباد ایک بین الاقوامی ادبی اور دانشورانہ سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہے۔

آزادجموں وکشمیر یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی اور انسٹیٹیوٹ آف لینگویجز کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس طرح کی کانفرنسز سے مختلف زبانوں ، ان کی تاریخ ، ان کی جزویات ، ان کی ساخت، ان کی تلفظات وغیرہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہ کانفرنس نہ صرف قومی اور مقامی زبانوں کو فروغ دے گی بلکہ بین الاقوامی اور قومی مندوبین کے درمیان ربط اور باہمی اشتراک کے فروغ کیلئے ممدومعاون ثابت ہوگی۔

صدر مسعود خان نے کہا کہ جموں و کشمیر زبان وبیان کے اعتبار سے ایک زرخیز خطہ ہے جو انڈو یورپین اور سائنوتبتیئن زبانوں کے اعتبار سے دو خاندانوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بولی جانے والی زبانوں میں اردو، کشمیری، پہاڑی، گوجری، ڈوگری، شینہ، بلتی، تبتیئن، لداخی اور گورو شاسکی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ زبانیںکسی خطہ کی تہذیب اور کلچر کی عکاسی کرتی ہیں۔

صدر نے کہا کہ تلفظات کی تبدیلی سے زبان اپنی اصل ساخت اور زندگی کھو بیٹھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی زبان کا خاتمہ ایک تہذیب کا خاتمہ ہوتا ہے۔ انہوںنے زور دیا کہ جس طرح مختلف زبانوں کی توسیع ہو رہی ہے ہمیں ان زبانوں کو برقرار رکھنے اور ان کی بقاء کیلئے سنجیدہ کاوشیں کرنا ہوں گی۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ موجودہ انٹرنیٹ اور سابئر سپیس ٹیکنالوجی کی بدولت بہت ساری اور مختلف زبانوں کیلئے جگہ اور گنجائش موجود ہے جو مقامی زبانوں اور ثقافت کیلئے بھی نیک شگون ہے۔

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمیںان سب سے بڑھ کر امن بھائی چارے یگانگت کی زبان کی تلاش میں بھی نکلنا ہوگا اور تنازعات ، اسلحہ اور ایمونیشن کی زبان سے اجتناب کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں پر روا رکھے جانے والے تشدد سے کبھی نہیں نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مذاکرات اور ڈپلومیسی کا راستہ اپنانا پڑے گا۔ اس کانفرنس میں مختلف سکالرز، ادبی شخصیات، محققین اور کثیر تعداد میں طلباء نے شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :