کو ئٹہ ، ماہر تعلیم پروفیسر شگفتہ اقبال کو گھر سے بے دخل کرنے کیخلاف سول سوسائٹی کی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

پیر اپریل 20:01

کو ئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ماہر تعلیم خاتون پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اقبال کو گھر سے بے دخل کیے جانے کے خلاف سول سوسائٹی نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ ماہر تعلیم کو صوبے میں تعلیمی خدمات سرانجام دینے کی خاطر قانونی مہلت نہیں دی گئی اس لئے اسے رہائش فراہم کی جائے انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز پولیس نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی ہدایت پر گھر خالی کرانے کے لئے مدد فراہم کی تھی مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھتے تھے جن پر نعرے درج تھے مظاہرین میں پروفیسر خلیل احمد اور منورہ منیر سمیت سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لو گوں کی بڑی تعداد موجود تھی مظاہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ماہر تعلیم گریڈ21 میں ریٹائرڈ ہونیوالی پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اقبال سے ان کے زیر استعمال سر کاری گھر کو خالی کرایا جس کے خلاف آج خواتین اساتذہ اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے ہیں اس موقع پر متاثرین خاتون نے بتایا ہے کہ ان کے خلاف ہائیر ایجو کیشن نے جعلی کاغذات کو بنیاد بنا کر کا رروائی کی اور گھر کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا گھر خالی کرنے کے لئے قانونی مہلت نہیں دی گئی حکومت تعلیمی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے گھر فراہم کرے مظاہرین نے انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ ماہر تعلیم عدالت میں کیس ہارچکی ہے اور انہوں نے حکام سے مہلت مانگی تھی جس کے بعد ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے پولیس سے مدد طلب کی گئی جس کے بعد پولیس نے گزشتہ روز گھر خالی کرانے کے حوالے سے ان کو مدد فراہم کی۔

متعلقہ عنوان :