بلوچستان ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر عائد پابندی کے خلاف درخواست پرسماعت

الیکشن سے قبل آپ میری دعوت کریں گے تو بیلٹ پیپر پر مجھے آپکی نمک حلالی کرنا ہوگی،آپ نماز بخشوانے آئے ہیں کہیں روزے گلے نہ پڑ جائیں، الیکشن سے متعلق معاملات خود حل کیا کریں،جسٹس جمال مندوخیل آپ کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اختیار حاصل ہے، یہ آرڈر کس قانون کے تحت ہے، اس لئے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے، کیا الیکشن کمیشن کو رات کو خواب آیا جو یہ آرڈر جاری کردیا، اس سے ہزاروں لو گ متاثر ہونگے ،کامران مرتضی ایڈوکیٹ یہ ہزاروں لوگوں نہیں چند اراکین کا مسئلہ ہے ،جسٹس کامران ملاخیل

پیر اپریل 21:13

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) بلوچستان ہا ئی کورٹ میں بلوچستان ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری محکموں میں بھرتیوں پر عائد پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملاخیل پر مشتمل بینچ نے کی ، درخواست گزار کے وکیل کامران مرتضیٰ ایڈوکیٹ اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے ،سماعت میں درخواست گزار کے وکیل کامران مر تضی ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کی مدت باقی ہے اس کے باوجود پابندی لگا دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کامران مرتضیٰ ایڈوکیٹ سے استفسار کیا میرا اختیار اس صورتحال میں کہاں پر ہے، الیکشن ٹربیونل کا عمل سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاتا ہے، اگر ہم کوئی آرڈر کرتے ہیں تو اس کا ملک بھر میں اثر ہوگا، کیا جس طریقے سے بھرتیاں کی جارہی ہیں وہ آئینی اور قانونی ہیں، آپ جنوری سے اب تک کا ریکارڈ منگوا لیں،کامران مرتضی ایڈوکیٹ نے جواب دیا کہ آپ کو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اختیار حاصل ہے، یہ آرڈر کس قانون کے تحت ہے، اس لئے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے، کیا الیکشن کمیشن کو رات کو خواب آیا جو یہ آرڈر جاری کردیا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے آرٹیکل 4 کو دیکھیں، جب انتخابات کا اعلان ہو تب الیکشن کمیشن ایسا کرسکتا ہے ، کامران مرتضی ایڈوکیٹ نے آرٹیکل 4,5,8 عدالت میں پڑھ کر سنائے ،جسٹس جما ل مندوخیل نے کہا کہ آپ غیر منظور شدہ اسکیم کو منظور کروانا چاہتے ہیں،کامران مرتضیٰ ایڈوکیٹ نے جواب دیا کہ نہیں میر ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے، الیکشن کمیشن نے تو الزام عائد کیا ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہزاروں لوگوں کو متاثر کرے گا، جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ یہ ہزاروں لوگوں کا نہیں صرف چند اراکین کا مسئلہ ہے،انہوں نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کے حکم کو کہیں چیلنج کیا جاسکتا ہی ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل شہک بلوچ نے جواب دیا کمیشن کے فیصلے کو کہیں بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے، سینیٹر آغا شازیب درانی کیس کی مثال موجود ہے، جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ تحریک انصاف پارٹی فنڈ کیس کو لاہور ہائیکورٹ نے واپس کردیا تھا،جس پر کامران مرتضی ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں آپ کے پاس کسی اور مقصد اور سوال کے تحت آیا ہوں، کامران مرتضی ایڈوکیٹ نے جواب دیا یہ غلط آرڈر اور پری پول ریگنگ ہے بھرتیوں اور ترقیاتی فنڈز سے الیکشن کمیشن کا کوئی تعلق نہیں ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ جن لوگوں کو بھرتی کررہے ہیں اسکا کوئی پلان بھی ہے،ان لوگوں کو 5 سال بعد بھی تنخواہیں دے سکیں گی ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتا یا کہ جی ہم نے مکمل پلان تیار کررکھا ہے،ایک اور موقع پر کامران مرتضی ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ ہمارا عوامی مینڈیٹ ہے جسے 31 مئی تک نہیں چھینا جاسکتا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جب 50 خاندانوں کے لوگ لگائیں گے تو یہ الیکشن مہم ہوئی،کامران مرتضیٰ ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عام آدمی کا کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے، ہم پر پری پول ریگنگ کا الزام لگا کر سیاسی دباؤ بڑھایا گیا اور پھر پابندی عائد کردی گئی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ: یہ کنفیوژن ٹی وی شوز نے پیدا کی ہے، بلا کچھ جانے تبصرے ہوتے ہیں، اگر الیکشن سے قبل آپ میری دعوت کریں گے تو بیلٹ پیپر پر مجھے آپکی نمک حلالی کرنا ہوگی، کامران مر تضی ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا یہ معاملات تو دو تین سال پہلے بھی ہوتے ہیں نوازنے کا رعمل تو وہ بھی ہوگا، بیوروکریسی ان پوسٹوں کو دبا کر بیٹھی ہوئی تھی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ان پوسٹوں کو اگر مشتہر نہ کیا گیا تو ںبجٹ کے بعد یہ ختم ہو جائیں گی،جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے سے جو لوگ لگے ہیں وہ کام کررہے ہیں یا نہیں ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اس معاملے پر ڈائریکٹر خزانہ نے ہمیں اپنی رپورٹ میں آگاہی دی ہے صوبے کے مختلف محکموں میں یہ پوسٹیں موجود ہیں، سماعت میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی بھی نمائندہ پیش نہ ہونے اور جواب داخل نہ کر نے پر بھی اعتراض کیا گیا جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو نوٹس کررہے ہیں،ان جواب طلب کرتے ہیں،کامران مرتضی ایڈوکیٹ نے کہا کہ وہ تو پہلے ہی ہوچکا ہے، وہ موجود نہیں ہیں،سماعت میں جسٹس کا مران ملاخیل نے ریما رکس دئیے کہ دسمبر 2013 کا بھرتیوں کے عمل کا ایکٹ ختم ہوچکاہے،کامران مر تضی ایڈوکیٹ نے کہا کہ کسی نے اس ایکٹ کو چیلنج نہیں کیا، جس پر جسٹس کامران ملاخیل نے استفسار کیا کہ کیا ہم بھی اس پر آنکھیں بند کرلیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کا جواب آنے دیں بلوچستان ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن اسلام آباد اور بلوچستان کو دوبارہ نوٹس جاری کردئیے اور کیس کی سماعت آج تک کے لئے ملتوی کردی۔