پولیس تشدد سے جاں بحق نوجوان کا معاملہ، بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او اقبال کانڈھڑو اور ہیڈ محرر سمیت 8 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

پیر اپریل 21:41

لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) پولیس کی تشدد سے جاں بحق نوجوان کاشف شاہ کا معاملہ، جاں بحق نوجوان کے بھائی جاوید شاہ کی مدعیت میں تھانہ الٰہی بخش سیال میں ایس ایچ او اقبال کاندھڑو اور ہیڈ محرر جہاں شاہ سمیت 8 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں 302 اور 34 پی پی سی کی دفعات شامل کرلی گئیں جس کے بعد پولیس نے ہیڈ محرر جہاں شاہ کو گرفتار کرلیا جبکہ ایس ایچ او دیگر ملزمان تاحال فرار ہیں۔

پولیس کے مطابق فرار ایس ایچ او اور اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں تاہم آخری اطلاع تک ان کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔ دوسری جانب باقرانی تحصیل کے تھانہ شہید الاہی بخش سیال پولیس کے تشدد سے جان بحق ہونے والے 18 سالہ لڑکے کاشف شاہ کے واقعے پر سکھر اور لاڑکانہ ڈویزن سے تعلق رکھنے والے سید برادری کے لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کو گرفتار کرکے مقدمے میں دہشتگردی کے دفعات شامل کیے جائیں بصورت دیگر پورے سندھ میں دھرنے دیئے جائیں گے۔

(جاری ہے)

لاڑکانہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید والنٹیئر آرگنائیزیشن کے چیئرمین سید امتیاز علی شاہ، علم الدین شاہ المست بخاری، سکھر سے مہتاب شاہ، خیرپور سے سائین سلیم شاہ، رتوڈیرو سے خالد شاہ اور مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے سید برادری کے معززین نے کہا کہ واقعے کے 24 گھنٹے کے بعد پولیس ایس ایچ او اور دیگر فرار پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی جو ملزمان سے رعایت برتنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے گناہ 18 سالہ لڑکے کاشف شاہ کو چوری کے مقدمے میں نامزد کرکے اسے بے دردی سے قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کے حلقے میں قائم کیے گئے تھانے کو ٹارچر سیل کے طور پر استعمال کرکے غریبوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے جس عمل کی جتنی مذمت کی جائے۔ حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں واقعے میں ملوث ایس ایچ او اور اہلکاروں سمیت جھوٹہ مقدمہ درج کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرکے مقدمے میں دہشتگردی دفعات شام کیے جائیں بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :