پاکستان کی آئینی تاریخ میں 18ویںترمیم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ،ڈاکٹر اسحاق بلوچ

وفاقی حکومت نے سی سی آئی کی میٹنگ اور این ایف سی ایوار کا اجلاس بروقت نہ بلا کر اپنی آئینی ذمہ داری کو پوار نہیں کیا

پیر اپریل 21:54

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے کہا ہے کہ وکلاء ہمارے معاشرے کا وہ باشعور طبقہ ہے جو معاشرے کے منفی اور مثبت رجحانات سے بخوبی واقف ہیں اور بلخصوص آئین و قانو ن کی بالادستی کے محافظ اور علمبرداد ہیں یہ بات انہوں نے ضلع خاران بار کونسل کے اراکین سے خطاب کر تے ہوئے کہی ،اس موقع پر خاران بار کو نسل کے صدر عزیز بلوچ ایڈوکیٹ،محمد اسماعیل پپیرکزئی ایڈوکیٹ،نذر جان ایڈوکیٹ سمیت دیگر بھی موجود تھے، ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے کہا کہ خاران بار کونسل نے ہمیشہ آئین اورقانون کی بالادستی کی جنگ لڑی ہے پاکستان کی آئینی تاریخ میں 18ویںترمیم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اس میں کوئی دورائے نہیں کہ یہ اعزاز تمام سیاسی جماعتوں کا جاتا ہے کہا انہوں اس ترمیم کو بنایا لیکن پا کستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے اختیارات وزیراعظم کو منتقل کر کے پا کستان کے سیاسی نظام کو مزید پارلیمانی بنایاانکے 18ویں ترمین میں صوبوں کو اختیارات منتقل کئے گئے جو ہمارے ملک کی آئینی تاریخ میں ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے اسی طرح صوبوں کے وزراء اعلی زیادہ بااختیار بھی ہوئے اور جتنے بھی اختیارات صوبے کو منتقل ہوئے وہ انتہائی اہم ہیں انہوں نے کہا کہ بار ،بنچ اور سیاسی جماعتوں کو بنتا ہے کہ وہ آئیں کا بھر پور دفاع کریں ،بدقسمتی سے مو جودہ وفاقی حکومت نے سی سی آئی کی میٹنگ اور این ایف سی ایوار کا اجلاس بروقت نہ بلا کر اپنی آئینی ذمہ داری کو پوار نہیں کیا ،انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی باشعور اور متوسط طبقے کے لوگوں کی جماعت ہے اور اپنے معاشرے کے تمام لوگوں کی عزت کرتی ہے ۔

متعلقہ عنوان :