پانی کی قلت کے ساتھ ہی بلدیہ ٹائون میںگلی محلے نجلی ہائیڈرنٹس قائم

ؑغیر معیاری اور مضر صحت پانی فراہم کرنے والے نجی ہائیڈرینٹس کا خاتمہ کیا جائے ، اہل علاقہ

پیر اپریل 23:26

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) پانی کی شدید قلت کے ساتھ ہی بلدیہ ٹائون میں گلی محلے نجی ہائیڈرنٹس قائم ہیں اور پینے کا غیر معیاری اور مضر صحت پانی مہنگے داموں فروخت ہونے کا سلسلہ جاری ہے ۔تفصیلات کے مطابق پانی کی قلت سے شدید متاثر بلدیہ ٹائون میں نجی ہائنڈرینٹس گلی محلے قائم ہیں جہاں نجی ہائیڈرینٹس مالکان نے گھروں میں زیر زمین بڑے ٹینک بنا رکھے ہیں اور سرکاری ہائیڈرینٹس انتظامیہ کی ملی بھگت سے وہاں سے پانی اپنے گھروں میں بڑے ٹینکرز کے ذریعے منتقل کرتے ہیں۔

اور اس میٹھتے پانی کو سکران سے لائے گئے یا بورنگ کے پانی میں مکس کر کے مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں ۔اوراس مکس پانی کے ٹینکر کی قیمت تین سے چار ہزار روپے ہے ،سوزوکی کی قیمت ہزار جبکہ گدا گاڑی پر پانی فراہم کر نے کی قیمت چھے سوروپے تک ہے۔

(جاری ہے)

سرکاری ہائیڈرنٹس پر پانی نہ ملنے اورپانی کی شدید قلت کے باعث اہل علاقہ نجی ہائیڈرنٹس مالکان سے مہنگے داموں پینے کیلئے غیر معیا ری پانی خریدنے پر مجبور ہیںاہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سکران کا پانی کسی صورت پینے کے قابل نہیں جبکہ بورنگ کا پانی بہت زیادہ کڑوا ہونے کی وجہ سے مضر صحت سمجھا جاتا ہے لیکن نجی ہائیڈرنٹس مالکان غیرمعیاری اور مضر صحت پانی فروخت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اہل علا قہ میں ملیریا، ڈینگی، ٹائیفائیڈ اور سانس کی مہلک بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں اور عوام اذیت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق نجی ہائیڈرنٹس اتحاد ٹائون،سیکٹر 12،سیکٹر 9،قائم خانی کالونی اور گلشن غازی وغیرہ میں واقع ہیں۔ اہل علاقہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کے غیر معیاری اور مضر صحت پانی فراہم کرنے والے نجی ہائیڈرنٹس کو ختم کیا جائے اور ہمیں پینے کیلئے صاف پانی فراہم کرنے کا ایسا سسٹم بنایا جائے کہ ہم با آسانی صاف پانی حاصل کر سکیں۔

متعلقہ عنوان :