پی آئی اے کی سی بی اے یونین کی2018 کا ریفرنڈ م :

اپریل سے آغاز کر دیا گیا، جنرل پولنگ کل ہو گی

منگل اپریل 20:45

پی آئی اے کی سی بی اے یونین کی2018 کا ریفرنڈ م :
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء)پی آئی اے کی (سی بی اے )یونین کے انتخاب کے لئی2سال کے التوا کے بعد ریفرنڈم2018 کے لئی9اپریل سے ریفرنڈم کا آغاز کر دیا گیا جنرل پولنگ کل ہو گی پاکستان بھر سے پی آئی اے کے 12ہزار سے زائد ملازمین اپنا حق رائے دہی استعمال کر کے اپنی پسندیدہ جماعت کو بر سر اقتدار لائیں گے ریفرنڈم 2018 میںصدارتی امیداروں میں حکومتی جماعت کی حماعت یافتہ ایئر لیگ کے لیئے شمیم اکمل ، پیپلزپارٹی کی حمائیت یافتہ پیپلز یونٹی کے لئے ہدائیت اللہ خان ،تحریک انصاف کی حمائیت یافتہ جماعت انصاف فرنٹ کے لئے ناصر مہدی جنجوعہ ، جماعت اسلامی کی حمائیت یافتہ پیاسی کے لئے عبید اللہ، غیر ساسی جماعت سکائی ویز کے لئے علی لاشاری مرکز میں مد مقابل ہوں گے جبکہ اسلام آباد اسٹیشن پرصدرات کے لئے ایئر لیگ کے محمد عثمان اور پیپلز یونٹی کے رمضان لغاری نامزد کئے گئے ہیں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم )کی حمایت یافتہ تنظیم یونائٹیڈ ورکرز نے ریفرنڈم2018کے لئے الحاق کر کے ایئر لیگ کی حمائیت کا اعلان کر دیا ہے پی آئی اے ریفرنڈم میںبرسر اقتدار آنے والی پاکستان کے تمام اسٹیشنوں پر صدر ، سینئر نائب صدر ، سیکرٹری جنرل اور آرگنائزر سیکرٹری کا انتخاب کرتی ہے جبکہ مرکز میں ان عہدوں کے علاوہ آئوٹ سٹیشن سیکرٹری بھی نامزد کیا جاتا ہے اس حوالے سے 9اپریل کریو و پولنگ (CREW POLLING) کا آغاز کیا گیا جبکہ جنرل پولنگ کل 19اپریل کو ہو گی ریفرنڈم کے ذریعے پی آئی اے ملازمین اپنی پسندیدہ جماعت کو2سال کے لئے منتخب کرتے ہیں یاد رہے کہ2014میں برسر اقتدار آنے والی حکومتی حمائیت یافتہ جماعت ایئر لیگ نے 2016 میں ریفرنڈم کا انعقاد کرنا تھا لیکن ایئر لیگ کے عدالت سے رجوع کرنے پر پہلی2016پھر 26اپریل2017کو 2بار ریفرنڈم پی آئی اے کی موجودہ نمائندہ ایئر لیگ(سی بی اے ) کی جانب سے دائر حکم امتناعی کی درخواست پرروکا گیا تھاائیر لیگ کی جانب سے عدالت عالیہ میں دائردرخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ریفرنڈم کا اعلان قوائد وضوبط کو مکمل کئے بغیرکیا گیا ہے جبکہ ایئر پورٹ پر6ماہ کے لئے سیکشن 10نافذ العمل ہونے کے باعث پولنگ کا انعقاد ممکن نہیں ہے بعد ازاں17مئی 2016کو پیپلز یونٹی کی جانب سے ریفرنڈم کے انعقاد کی درخواست پر وفاقی عدالت عالیہ کے جسٹس اطہر من اللہ نے 7جون 2014کو ہونے والے اس ریفرنڈم کو کالعدم قرار دے دیاتھا جس میں حکومتی حمایت یافتہ جماعت ایئر لیگ برسر اقتدار آئی تھی جبکہ ریفرنڈم کے انتظامات کی ذمہ داری قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات( این آئی ار سی)کے رجسٹرار کو تفویض کرتے ہوئے ریفرنڈم کی تیاری کا حکم دیاگیا تھا اس پر ایئر لیگ نے عدالت میں اپیل دائر کی کہ ریفرنڈم کروانے کا اختیار رجسٹرار این آئی آر سی کے پاس نہیں ہے پی آئی اے کی دیگر تنظیموں نے عدالتی احکامات کے باوجود ایئر لیگ کی2سال مکمل ہونے کا انتظار کیا بعد ازاں پیپلز یونٹی کی جانب سے دوبارہ عدالت سے رجوع کرنے پر ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریفریڈم کروانے کا حکم دیا جس پررواں ماہ یکم اپریل کو سکھر میں منعقدہ پی آئی اے کے کل جماعتی اجلاس جس میں حکومتی حمائت یافتہ ایئر لیگ ، پیپلز پارٹی کی حمایت یافتہ پیپلز یونٹی ، جماعت اسلامی کی حمایت یافتہ پیاسی، تحریک انصاف کی حمایت یافتہ انصاف فرنٹ اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم )کی حمایت یافتہ تنظیم یونائیٹڈ ورکرز نے شمولیت کی اس موقع پر تمام جماعتوں کی باہمی مشاورت سے 26 ، 27 اپریل 2017کو ’’کریو وپولنگ ‘‘ (CREW POLLING) اور 9مئی 2017کو جنرل پولنگ ہونا تھی لیکن بر سر اقتدار(سی بی ای) جماعت ایئر لیگ نے ایک بار پھر عدالت میں اپیل دائر کر دی کہ ریفرنڈم کا اعلان قواعد وضوبط مکمل کئے بغیرکیا گیا ہے جبکہ ایئر پورٹ پر 6 ماہ کے لئے سیکشن 10نافذ العمل ہونے کے باعث پولنگ کا انعقاد ممکن نہیں ہے جس پر عدالت نے ریماکس دیئے کہ ریفرنڈم کے قواعد وضوابط کو مکمل کرنے کا عمل جاری رکھا جائے جبکہ پولنگ کی تاریخ میں باہمی مشاورت سے ردوبدل کیا جا سکتا ہے با لآخر9تا 19اپریل 2018کرو و پولنگ جبکہ 19اپریل کو جنرل پولنگ کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا