اسپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی کا سی پیک کے تناظر میں صنعتکاری اورشہرکاری کے مواقعوں پر سیمینار سے خطاب

منگل اپریل 21:15

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی نے سی پیک منصوبے کو خطے میں گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بڑے منصوبے پر عملدآمد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی آمد اوربڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری کے پیش نظر بلوچستان اور خاص طور سے گوادر کی مقامی آبادی کے مفادات ، کلچر اور شناخت کے تحفظ کیلئے قانون سازی سمیت ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس سی پیک کے تحت ترقی کی طرف پہلا قدم ہے۔ ہیومن ریسورس اور نو جوان نسل کو ہنر مند بنانے میں جامعات کا کردر سی پیک کی کامیابی کے لئے کلیدی ہونا چاہیئے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومت بلوچستان وزارت منصوبہ بندی و ترقیات اور اصلاحات حکومت پاکستان ، اربن یونٹ پنجاب اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس اسلام آباد کے اشتراک اور سینٹر آف ایکسی لنس برائے سی پیک اور آئی ٹی یونیورسٹی کے تعاون سے سی پیک کے تناظر میں بلوچستان میں صنعتکاری اورشہرکاری کے مواقعوں پر ایک روزہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال ، صوبائی سیکریٹری انڈسٹریز احمد عزیز تارڑ ، سیکرٹری پی اینڈ ڈی اسفند یار کاکڑ ، کمشنر کوئٹہ جاوید احمد شاہوانی ، شہری منصوبہ بندی کے ماہرین اور دیگر متعلقہ حکام کے علاوہ بیوٹمز کے طلبہ نے کثیر تعدادمیں شرکت کی ۔

(جاری ہے)

اسپیکر نے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ مستقبل میں سی پیک کے تحت کس نوعیت کے کام کی ضرورت ہے اور سی پیک کی کامیابی اور انکے ثمرات سے مستفید ہونے کے لئے ہمیں اپنے نوجوانوں کوہنر مند اور تیکنکی بنیادوں پر تیار کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبہ پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں صوبائی ، ملکی اور بین الاقومی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ نہ صرف بلوچستان کے عوام بلکہ پوری قوم سی پیک منصوبے کی تکمیل چاہتی ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس اہم منصوبے کو کامیاب کریں انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ سی پیک پر عملدرآمد کے دوران بلوچستان میں ایک انٹرنیشنل ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ مقامی سرمایہ کاروں کو اپنا وجود برقرار رکھنے اور ترقی کے عمل میں ان کی شراکت کو یقینی بنانے کے لئے انہیں تمام ضروری معاونت اور مشاورت مہیا کی جاسکے انہوں نے اس بات پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں جاری غیر معمولی ترقیاتی عمل کے تناظر میں ربط وضبط کو زیادہ مؤثر بنانے کے لئے چینی حکام اردو زبان سیکھ رہے ہیں لیکن ہم ابھی تک انگریزی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے چینی زبان سیکھنے کی غرض سے دوسرے صوبوں کے علاوہ بلوچستان سے بھی طلبہ کو چین بھیجنے کے اقدام کو سراہا ۔

اسپیکر نے کہا کہ سی پیک کے تحت بلوچستان کی ترقی کے لئے ایک فریم ورک کی ضرورت ہے اور اس منصوبے کی کامیابی کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور مقامی لوگوں کے حقوق کے تحفظ کیساتھ ساتھ ثقافت اور مذہب کے تحفظ کوبھی یقینی بنانا ہوگا ۔سیمینار کے شرکاء سے وائس چانسلر بیوٹمز انجینئر احمد فاروق بازئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا ۔

ہمیں اس عظیم منصوبہ کے تحت میسر آنے والے مواقعوں اور فوائد سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ چین کی جامعات میں پاکستانی طلبا و طالبات کا خیر مقدم کیا جارہاہے اور اس وقت 22ہزار پاکستانی چائنا کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ اور یہی پاکستانی طلبہ ملک واپس آکر سی پیک کی کا میابی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک میں ہیومن ریسورس جامعات کا کردار اہم ہوگا ۔ وفود کا تبادلہ اور دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کی زبانوں پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔ سی پیک سے ملک کی قسمت تبدیل ہوگی انہوں نے بتایا کہ 2017 ء میں بیوٹمز میں سی پیک کی اہمیت کے پیش نظر چائنا سینٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ کے تعاون سے سی پیک سینٹر آف ایکسی لنس کی دومنزلہ عمارت زیر تعمیر ہے جو رواں سال اگست میں مکمل ہو گی ۔

ہماری ٹیم سی پیک سینٹر آف ایکسی لنس کے لئے تین سالہ پلان مرتب کررہی ہے ۔ اس طرح بیوٹمز اور سی پیک سینئر آف ایکسی لنس کے مابین مفاہمتی یاداشت کے معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے ہیں جس سے طویل المدتی روابط قائم کرنے میں اہم پیش رفت ہوگی انہوں نے بیوٹمز میںسی پیک سیمینار کے انعقاد پرحکومت بلوچستان،، وزارت منصوبہ بندی و ترقیات اور اصلاحات حکومت پاکستان، اربن یونٹ پنجاب اور سینٹر فارایکسی لنس برائے سی پیک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ بھی اس اہم نوعیت کے سیمینار منعقد کروانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔

سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات اسفند یار کاکڑ نے سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے نہایت ہی اہمیت کا حامل صوبہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں 770 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی بھی موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک نہایت ہی اہم منصوبہ ہے جس سے صوبے میں روزگار کے وسیع مواقع میسر آنے کے ساتھ ساتھ ترقی و خوشحال بھی آئے گی ۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بلوچستان صوبائی اسمبلی نے بلوچستان پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ بل کی منظور ی دی ہے جس کے نفاذ سے سی پیک کے منصوبوں میں براہ راست بیرون و ملکی سرمایہ کاری کو موثر انداز میں فروغ ملے گا ۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ حکومت بلوچستان ورلڈ بینک کے تعاون سے سی پیک سینٹر کا قیام عمل میں لا چکی ہے تاہم وفاق کی جانب سے اسپیشل اکنامک زون بوستان ودیگر منصوبوں کے لئے تیکنیکی معاونت کی فراہمی ناگزیر ہے سیمینار کے شرکاء سے ڈاکٹر سلیم جنجوعہ پالیسی ہیڈسینٹر آف ایکسی لینسبرائے سی پیک نے سی پیک کے تحت بلوچستان کے لئے پروجیکٹس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس منصوبہ کی تکمیل سے صوبہ کے مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی کیساتھ ساتھ یہاں پر فنانشل ڈیویلپمنٹ گروتھ اور حکومتوں کے درمیان روابطہ قائم کرنے بھی مدد ملے گی ۔

انہوں نے ا س بات پر زور دیا کہ سی پیک سے متعلق شعور و آگاہی بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ خرم افضال سینئر اکنامسٹ اربن یونٹ پنجاب نے کہا کہ سی پیک منصوبہ سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کی معیشت مستحکم ہوگی ۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سی پیک منصوبہ سیبہترانداز میں مستفید ہونے کے لئے ہمیں اپنے نوجوانوں کو ہنر مند بنانا ہوگا اور اس حوالے سے ڈیٹا مرتب کرنے کی ضرورت ہے سی پیک سینٹر آف ایکسی لنس کے ڈاکٹر شاہد رشید نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے دنیا میں روابطہ کو فروغ دینے سے معیشتوں کا استحکام ممکن ہو پائے گا۔

بلٹ اینڈ روڈ منصوبہ روابط کوفروغ دیکر نئی مارکیٹ کے قیام میں مدد گار ثابت ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ انفرا اسٹریکچر منصوبہ کیساتھ ساتھ سی پیک کے تحت 9 اقتصادری زونز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے پاک چین صنعتی تعاون کی وجہ سے ملک میں صنعتکاری کو فروغ ملے گا ۔ آخر میں اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی نے صوبائی سیکریٹریز اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کو یادگاری شیلڈز سے نوازا ۔ بعد ازاں سینٹرفار ایکسی لنس برائے سی پیک اور بیوٹمز کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کئے گئے۔

متعلقہ عنوان :