دریائے سندھ میں ڈوبنے والے بہن بھائی اور بھانجی کی لاشیں برآمد

منگل اپریل 21:15

نوشہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) پشاور سے سیر و تفریح کے لیے کنڈ نیشنل پارک آنے والے سگے بہن بھائی اور بھانجی جو گزشتہ روز ایک دوسرے کو بچاتے ہوئے ڈوب گئے تھے، کی لاشیں برآمد کرلی گئیں۔جس میں بہن اور بھانجی کی لاش گزشتہ روز اور بھائی کی لاش رات گئے دریائے سند ھ سے برامد کرلی گئی تینوں کی لاشیں ریسکو1122 کی ٹیم نے کافی جد وجہد کے بعد دریائے سے نکالی بدقسمت بھائی انیس اپریل کو دوبئی جانے والا تھا جو بہن اور بھانجی کو سیر کی غرض سے کنڈ نیشنل پارک لایا تھا کہ تینوںدریائے سندھ کی بے رحم موجوں کی نظر ہوگئے۔

تینوں جنازے ایک ساتھ اٹھے تو علاقے میں کہرام مچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزکنڈ نیشنل پارک کے قریب دریائے سند ھ میں ڈوبنے والے ستائیس سالہ نور جمیل ولد جمیل خان ساکن پاڑہ چنارہ حال رنگ روڈ پشاور کی لاش بھی رات گئے دریائے سند ھ سے کافی جدوجہد کے بعد نکال لی۔

(جاری ہے)

جبکہ اس کی بہن مسمات نائیلہ دختر جمیل خان اور پندرہ سالہ بھانجی ثنا دختر موجود گل کی لاشیں گزشتہ روز برامد کرلی گئی تھیں۔

تینوں دریائے سندھ کے کنارے چہل قدمی کے لیے اتر ے تھے کہ اس دوران ثنا پانی میں اتر گئی اور اچانک دریامیں پھسل گئی جس پر نائیلہ نے اسکو بچانے کے لیے ہاتھ دیا۔ اور ثنا نے اس کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا بہن اور بھانجی کو ڈوبتے دیکھتے ہوئے نور جمیل نے ان کو بچانے کی کوشش کی اور وہ بھی دریامیں جاگرا۔اور اس طرح تینوں لاپتہ ہوگئے ۔ ریسکیو 1122 نوشہرہ ،مردان اور پشاور کی خوطہ خور ٹیموںنے دونوں لڑکیوں نائیلہ اور ثناء کی لاشیں دریائے سے نکال لی۔

جبکہ نور جمیل کی تلاش کاکام جاری تھا اور رات گئے خوطہ خوروں نے نور جمیل کی لاش ٹھیک اسی جگہ سے برامد کرلی جہاں پر یہ ڈوبا تھا۔ نو رجمیل کے قریبی رشتہ داروں کے مطابق نور جمیل جو کہ دوبئی میںمحنت مزدوری کرتا ہے ۔ چھٹی پر گھر ایا ہو تھا اور انیس اپریل کو واپس دوبئی جانے والا تھا کہ بہن ، بھانجی سمیت دریائے سند ھ کی بے رحم موجوں کی نظر ہوگیا۔ تینوں کے جنازے رنگ روڈ پشاور میں جب ایک ساتھ اٹھے تو علاقے میں کہرام مچھ گیا ہر انکھ اشک بار تھی ۔ اور علاقے کے عوام کافی غمز دہ تھے۔

متعلقہ عنوان :