اسلام آباد ہائی کورٹ کا آئی جی اسلام آباد پولیس کو منشیات کی خرید و فروخت کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم

منگل اپریل 21:34

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت کیس میں آئی جی اسلام آباد پولیس کو منشیات کی خرید و فروخت کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی ہے۔ منگل کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر آئی جی اسلام آباد پولیس ڈاکٹر سلطا ن اعظم تیموری ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوئے ۔عدالت نے حکم دیا کہ کوہسار مارکیٹ میں شیشے اور منشیات کے اڈے کھلے ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکم دیا کہ اگر ایک جج شراب پیتا ہے تو اس کو بھی گرفتار کر لو، لیڈیز پولیس پورے پاکستان میں چیخ رہی ہیں، قانون اگر اجازت دے تو ایسے عصمت دری کرنے والے پولیس کے ڈی ایس پی کو ڈی چوک پر سر عام شوٹ کیا جائے ۔

(جاری ہے)

آئی جی اسلام آباد پولیس نے کہا کہ اگر مجھے نوکری سے فارغ بھی کردیا جائے تو کوئی غم نہیں مگر پولیس کو پاک صاف کرکے دم لوں گا۔ سماعت کے دوران فاضل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی جی پولیس سے استفسار کیا کہ کون کون سے ججز، سرکاری آفیسر اور مولوی اور دیگر شخصیات شراب اور منشیات لیتے ہیں۔آئی جی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے خلاف ایف آئی آر غلطی سے درج ہوئی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی پولیس منشیات کی خرید و فروخت کے حوالے سے جامع رپورٹ دیں، آئی جی اور ایس ایس پی بتائیں کہ قحبہ خانوں اور شراب فروشی کے اڈوں کے خلاف کیا کاروائی کی، پولیس اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی ہے ۔mmh

متعلقہ عنوان :