کرپشن ،نفرت،تعصب،موروثیت اور تنگ نظری کی سیاست زہر قاتل ہے،مولانا عبدالحق ہاشمی

منگل اپریل 21:56

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ کرپشن ،نفرت،تعصب،موروثیت اور تنگ نظری کی سیاست زہر قاتل ہے جماعت اسلامی انصاف کی فراہمی ،ظلم وجبر کے خاتمے کیلئے نظریاتی، اسلامی سیاست کرکے عوام کے مسائل حل اور نفاذ اسلام کی راہ ہموارکررہی ہے ۔ کرپٹ مافیا قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے ملک وعوام کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں ۔

قوم دیانت دار قیادت ،آزادعدلیہ اور منصفانہ احتساب کے اداروں کے ساتھ ہے بلاتفریق منصفانہ طریقے سے لٹیروں کو پکڑنے اور ان سے قومی دولت واپس لینے والوں کو عوام کندھوں پر اٹھائیں گے ۔چوروچوری کوتحفظ دینے والا نظام قوم کوقبول نہیں ۔چوروں ولٹیروں کوتحفظ دینے والا گونگا بہرہ اور اندھا نظام ،ظلم کا نظام ہے جسے مسلط رکھنے کیلئے کرپٹ مافیا زور لگا رہی ہے عوام بجا طور پر کرپٹ اور بدیانت حکمرانوں کو اپنے تمام مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں جنہوں نے عوام کو غربت اور مہنگائی میں پیس کررکھ دیا ہے اور قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک منتقل کی اور اپنے لئے لندن ،دبئی اور نیویارک میں عالی شان محلات بنوائے ۔

(جاری ہے)

عوام ملک پر مسلط یزیدی نظام کے خاتمے اور اسلامی نظام کے قیام کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں کیونکہ ظلم کے خلاف اٹھنا اور ظالم کا ہاتھ روکنا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے اور جو ظالم کا ساتھ اور اسے ووٹ اور سپورٹ دیتا ہے اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی ذمہ داران اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ ،زاہدا ختر بلوچ ودیگر ذمہ داران نے شرکت کی اجلاس میں ذمہ داران نے ماہانہ رپورٹ پیش کی ،آئندہ الیکشن ،ایم ایم اے کی تشکیل کے بعد کی صورتحال ، اضلاع کی سطح پر ایم ایم اے کی تنظیم نو سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ حق و باطل کی کشمکش قیامت تک جاری رہے گی اور کامیاب وہی ہوگا جو مشکلات اور مصیبتوں کے باوجود حق کا پرچم اٹھائے رکھے گا۔

کرپٹ حکمرانوں نے قومی دولت لوٹ کر اپنی تجوریاں بھریں اور ملک کو مستقل طور پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے قرضوں کی ہتھکڑیوں میں جکڑ دیا ۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوتی تو عوام غربت ،مہنگائی ،بے روز گاری اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا نہ ہوتے ۔لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا ،خوراک اور ادویات میں ملاوٹ سے لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں،غریب کو تعلیم ،علاج اور انصاف کی سہولتیں میسر نہیں ۔

ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ بیرون ملک پڑی ہوئی پانچ سو ارب ڈالرز کی خطیررقم ملک میں واپس لائی جائے اور اس دولت کو عوام پر خرچ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر لوٹی ہوئی قومی دولت ملکی خزانے میں آجائے تو نہ صرف ہم بیرونی قرضے واپس کرسکتے ہیں بلکہ عوام کو تعلیم علاج اور چھت جیسی بنیادی سہولتیں مفت فراہم کی جاسکتی ہیں۔

متعلقہ عنوان :