اسلام آباد، سکالرشپ پر پڑھنے والی بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی طالبات اسلام آباد کالج فارگرلز ایف سکس ٹو میں مسائل سے دوچار

ہاسٹل میں غیر معیاری کھانا دیا جانے لگا ، دوماہ سے سکالرشپ کی معمولی رقم بھی کالج کی پرنسپل روبینہ مقبول نے روک دی

منگل اپریل 22:34

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) وفاقی دارالحکومت میں سکالرشپ پر پڑھنے والی بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی طالبات اسلام آباد کالج فارگرلز ایف سکس ٹو میں مسائل سے دوچارہوگئے ہیں،ہاسٹل میں غیر معیاری کھانا دیا جانے لگا جب کہ دوماہ سے سکالرشپ کی معمولی رقم بھی کالج کی پرنسپل روبینہ مقبول نے روک دی۔ذرائع نے بتایاکہ تیس بچیاں بلوچستان سے جبکہ تیس بچیاں مقامی ہیں ۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی بچیوں کو بلوچستان حکومت پندرہ سو روپے ماہوارجیب خرچہ ادا کرتی ہے ۔ مقامی بچیوں سے نو ہزار روپے ماہانہ ہاسٹل فنڈ لیا جاتاہے ،ان بچیوں کو کھانا پینا اور دیگر اخراجات ادا کرنے والی ہاسٹل وارڈن کے دو لاکھ روپے بھی کالج پر بطور قرض بقایاہے۔ ذرائع نے بتایاکہ شام کی شفٹ میں کام کرنے والے ایک سو سے زائد ملازمین بشمول مالی، چوکیدار، ہاسٹل کا عملہ ،آفس بوائے ودیگر عملہ کو بھی تاحال تنخواہیں نہیں ادا کی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

گزشتہ ایک ماہ سے شدید مسائل سے پریشان طالبات نے پریشان ہو کروالدین کو شکایات کرنا شروع کردیں،،بلوچستان سے والدین نے وفاقی نظامت تعلیمات حکام کو تحریری شکایات بھجوادی ہیں،ذرائع کے مطابق حال ہی میں کالج کی پرنسپل تعینات ہونے والی روبینہ مقبول نے بلوچستان کی طالبات کے مسائل پر توجہ دینا کی بجائے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ذرائع نے بتایاکہ سٹوڈنٹ فنڈ، ماسٹرز کلاسز کی فیسوں پر مبنی فنڈ،سائنس لیب فنڈ،ایڈمشن فنڈ ،بس فنڈ کی مد میں کروڑ روپے کالج کے پاس موجود ہیں اس کے باوجود سکالرشپ پر پڑھنے والی بچیوںکو رقم نہیں دی جارہی ہے۔

پرنسپل کے متعلق ذرائع نے بتایاکہ اس سے قبل ایف ٹین ٹو گرلز کالج کا بھی تمام فنڈزخرچ کرچکی ہیں جبکہ مبینہ طورپر اپنے سٹاف کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔واضح رہے کہ پرنسپل روبینہ مقبول اس سے قبل F10/2میں رہی اور وہاں پر بچی پر تشدداور معصوم بچی کیساتھ زیادتی جیسے واقعات رونما ہوئے جبکہF6/2 icg میں تبا دلے کیساتھ ہی آٹھویں جماعت کی طالبہ سکول ٹائم کے دوران غائب ہو گئی تھی۔

متعلقہ عنوان :