لاہور ، احتساب عدالت نے خان چیمہ سمیت چار شریک ملزمان کو مزید26 اپریل تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا

منگل اپریل 23:27

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) لاہور کی احتساب عدالت نے آشیانہ ہاوسنگ سکیم میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتار سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ سمیت چار شریک ملزمان شاہد شفیق، امیتاز حیدر اور بلال قدوائی کو مزید26 اپریل تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔۔لاہور کی احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے منگل کو کیس کی سماعت کی۔

عدالتی سماعت کے موقع پراحد چیمہ اور شریک ملزمان کو نیب کی جانب سے سخت سکیورٹی اور ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔دوران سماعت تفتیشی افسر نے تفتیش کی ابتدائی رپورٹ عدالت میں پیش کی،تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ احد خان چیمہ کے 2 موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کو فرانزک ٹیسٹ کے لئے بھجوایا گیا ہے،احد چیمہ نے کروڑوں روپے کی بتیس کینال ارضی اپنے اور بہن بھائی کے علاوہ معمولی قیمت پرکزن کے نام کی کی،،عدالتی استفسار پر پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب لینڈ ڈولپمنٹ کمپنی کا کام غریب عوام کو گھر بنا کر دینا تھا مگر آشیانہ اقبال میں ایک بھی گھر نہیں بنا زمین ابھی تک خالی پڑی ہے،انہوں نے بتایا کہ آشیانہ ہاوسنگ سکیم کے فارم غریب عوام کو چھ کروڑ روپے میں فروخت کئے گئے جبکہ سرکاری خزانے سے انیس کروڑ کی ادائیگیاں کر کے خزانے کو نقصان پہنچایا گیا،، نیب تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ پی ایل ڈی سی نے پراجیکٹ تیار کیا، 3 ہزار کنال زمین پراگون سٹی کے ساتھ اٹیچ تھی۔

(جاری ہے)

مبینہ طور پر شرایط وضوابط میں تبدیلی کی گئی، ایل ڈی اے نے کسی بھی ایکسپرٹ سے رابطہ نہیں کیا۔جبکہ اس سے قبل آشیانہ ہاوسنگ پہلے بھی حکومت بنا چکی ہے، آشیانہ اقبال میں ردوبدل صرف پیراگون کو نوازنے کیلیے کی گئی، نیب تفیتشی افسر نے بتایا کہ ایل ڈی اے نے مبینہ طور پر قواعد وضوابط کیخلاف ٹھیکہ دیا، پراجیٹ 14 ارب کاہے جبکہ کمپنی کی مالیت ڈیڑھ کروڑ ہے، اس دوران عدالت نے کہا کہ ملزم شاہد شفیق سے اسفتسار کیا کہ آپ بتائیں آپکو کوئی بیماری تو نہیں ہے،، نیب تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ شاہد شفیق نے دوران تفتیش تعاون نہیں کیا اورکہا جا رہا ہے کہ انہیں ڈپریشن اور ٹینشن ہے جبکہ شاہد شفیق کا میڈیکل عدالت میں جمع کروا دیا ہے یہ بالکل تندرست ہے، ملزم بار بار موقف تبدیل کر رہا ہے۔

علی سجاد بھٹہ کو بھی شامل تفتیش کرلیا ہے۔ جس پرعدالت نے استفسار کیا کہ یہ صاحب کون ہیں،، نیب تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ یہ پیراگون سٹی کا سی ایف او ہے، نیب تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمان کیخلاف ٹھوس شواہد حاصل کرلیے ہیں جس کا ریکارڈ موجود ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ تو پھر ابھی آپکو مزید ریمانڈ کیوں چاہیے، پراسکیوشن کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزمان سے مزید انکشافات متوقع ہے،، ملزمان کے وکیل نے کہا کہ آج 57 دن ہوگئے لیکن نیب کو کچھ نہیں ملا، آج نیب کو یاد آرہا ہے کہ معاہدوں کی تفصیلات دی جائے، کنٹریکٹ دیتے وقت تمام قوانین کی مکمل پاسداری کی گئی، پیپرا ویب سائٹ اور بذریعہ اشہارات ٹھیکے کی تشہیر کی گئی،86 افراد نے یہ ٹھیکہ حاصل کرنے کیلیے اپلائی کیا،86 میں سے کسی ایک نے بھی اعتراض نہیں اٹھایا کہ ٹھیکے میں بے ضابطگی ہوئی ہے۔

دوران سماعت احتساب عدالت میں ملزمان وکلا اور پراسکیوشن کے وکلاء میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ملزمان کے وکلا ء نے مزید ریمانڈ نہ دینے پر اصرار کیا۔ فریقین کے وکلاء کے دلائل سٴْننے کے بعدعدالت نے احد چیمہ اور شریک ملزمان کو 26 اپریل تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔قبل ازیں منگل کو ہی عدالت نے فریقین کے دلائل پر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ دینے کے معاملے پر کچھ دیر کے لیئے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

متعلقہ عنوان :