پولیس چوکی والوں کو کھانا،پانی فراہم کرنے پر12سالہ افغان بچے کو پھانسی

بظاہر یہ بچہ اپنے بہنوئی کی مدد کر رہا تھا،داعش جنگجوئوں نے پھانسی پر لٹکایا،اعلیٰ افغان اہلکار

بدھ اپریل 13:57

پولیس چوکی والوں کو کھانا،پانی فراہم کرنے پر12سالہ افغان بچے کو پھانسی
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) مقامی پولیس کی مدد کرنے کے الزام پر، داعش کے شدت پسندوں نے شمالی افغانستان میں ایک 12 برس کے لڑکے کو پھانسی دے دی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات حکومت افغانستان کے ایک اعلیٰ اہلکار نے امریکی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ،لڑکے پر الزام تھا کہ اٴْس نے شمالی صوبہ جوزجان میں افغان پولیس کی مقامی چوکی کو پانی اور کھانا فراہم کیا تھا۔

(جاری ہے)

صوبہ جوزجان کے گورنر لطف اللہ عزیزی نے بتایاکہ بظاہر یہ بچہ اپنے بہنوئی کی مدد کر رہا تھا، جو مقامی افغان پولیس کے اہل کار ہیں، جو ضلع کوٹہ اوستی میں دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔بقول اٴْن کے یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ داعش کے شدت پسندوں نے شہری آبادی کے خلاف اس قسم کے مظالم ڈھائے ہوں۔ اس سے قبل وہ خواتین تک کو پھانسی دے چکے ہیں۔۔افغانستان کا مشرقی صوبہ ننگرہار دولت اسلامیہ کا سرگرم ٹھکاہ جانا جاتا ہے، جہاں یہ گروپ 2015ء میں نمودار ہوا۔اِن سالوں کے دوران گروپ نے شمال تک کے کئی مقامات پر اپنی گرفت تیز کی ہے، خاص طور پر صوبہ اجوزجان میں۔صوبائی حکام نے بتایا کہ گروپ شمالی جوزجان میں بھرتیاں کرتا رہا ہے۔