سارک چیمبر آف کامرس کا تین روزہ اجلاس 27 اپریل کو اسلام آباد میں شروع ہوگا، وژن 2030 کو حتمی شکل دی جائے گی

اجلاس میں تمام رکن ممالک سے سینئر نائب صدر اور نائب صدور شرکت کریں گے، سارک چیمبرکے صدر رووآن ایدرسنگھے کی ٹیلی فون پر نائب صدر برائے پاکستان افتخار علی ملک سے بات چیت

بدھ اپریل 15:40

لاہور ۔18 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) سارک چیمبر آف کامرس کا تین روزہ اجلاس 27 اپریل کو اسلام آباد میں شروع ہوگا جس میں وژن 2030 کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اجلاس میں تمام رکن ممالک سے سینئر نائب صدر اور نائب صدور شرکت کریں گے۔ اس ضمن میں جاری بیان کے مطابق سارک چیمبرکے صدر رووآن ایدرسنگھے نے بدھ کو کولمبو سے ٹیلی فون پر نائب صدر برائے پاکستان افتخار علی ملک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں اہم فیصلے کئے جائیں گے اور علاقائی تعاون کو آگے بڑھانے کے لئے سارک چیمبر تمام ممبر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

رووآن ایدرسنگھے نے کہا کہ تمام نائب صدور کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 27 اپریل سے قبل اپنے ممالک میں ایگزیکٹو کمیٹی اور جنرل اسمبلی اجلاس منعقد کرکے اس ضمن میں سفارشات تیار کریں اور سارک چیمبر سکریٹریٹ کو بجھوا دیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ سارک چیمبر کو نتیجہ خیز بنانا، اسے علاقائی تجارتی اور سرمایہ کاری پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا، شراکت داروں کی تلاش اور عالمی بینک، ایشیائی بنک، یونیسکیپ، یونیڈو، آسٹریلیا ایڈ، یوروچیمبرز اور ایف این ایف کے ساتھ موجودہ روابط کو مضبوط کرنا اور سیاحت، کھیلوں، تجارتی میلوں، کاروباری وفدوں کے تبادلے اور بزنس میٹنگز کا انعقاد ان کی اولیں ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں سارک چیمبر کے تھنک ٹینک کے قیام، سارک کی تمام چیمبر کونسلز کو فعال کرنے اور تجارت، سہولت اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع کو بہتر بنانے اور سارک کے سیاسی لیڈروں کے ساتھ لابی کے لئے ایک مکمل نیٹ ورک کی تیاری کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سارک چیمبر کو 2030 تک دنیا کا بہترین چیمبر بنانے کیلئے کوششیں تیز کی ہیں کیونکہ یہ خطہ قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہے۔

انہوں نے کہا کہ سارک چیمبر ہیڈکوارٹرز بلڈنگ کمیٹی کا اجلاس 27 اپریل کو ہوگا اور چیئرمین بلڈنگ کمیٹی افتخار علی ملک اور وائس چیئرمین زبیر احمد ملک شرکاء کو زیر تعمیر سٹیٹ آف دی آرٹ بلڈنگ اور اس پر جاری کام کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔ سارک چیمبر کے نائب صدر افتخار علی ملک نے اس اجلاس کو کامیاب بنانے کے لئے رووآن ایدرسنگھے کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔

انہوں نے جنوبی ایشیا میں تجارتی لبرائزیشن کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک میں تعاون تجارت کے فروغ سے خطہ کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سارک کو گلوبل اپروچ اپنانی چاہئے اور غربت کے خاتمے، صحت کے شعبے میں بہتری اور تجارتی و اقتصادی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت جو سارک کی سب سے بڑی معیشتیں ہیں مذاکرات کے ذریعہ اپنے دو طرفہ معاملات حل کریں۔

متعلقہ عنوان :