محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب نے جامعات میں غیر قانونی بھرتیوں کا نوٹس لے لیا،سابقہ ادوار میں قواعد و ضوابط سے ہٹ کر بھرتی ہونیوالے افراد کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا حکم،

تمام وائس چانسلرز سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب

بدھ اپریل 18:18

لاہور۔18 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب نے جامعات میں غیر قانونی بھرتیوں کا نوٹس لے لیا،سابقہ ادوار میں قواعد و ضوابط سے ہٹ کر بھرتی ہونیوالے افراد کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا حکم دیدیا گیاجبکہ صوبے بھر کی تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز سے ایک ماہ میں مکمل رپورٹ طلب کر لی۔ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی طرف سے وائس چانسلر ز کو جاری کرد ہ مراسلے کے مطابق جامعات میں آئین و قانون اور مجوزہ قواعد و ضوابط سے ہٹ کر بھرتی ہونیوالے افراد کو فوری طور پر نوکریوں سے فارغ کر نے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس ضمن میں غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کر کے رپورٹ پیش کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آئندہ تمام بھرتیاں میرٹ کے مطابق شفاف طریقے سے کی جائیں اور ریکروٹمنٹ پراسیس کو مد نظر رکھتے ہوئے مجوزہ طریقہ کار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

(جاری ہے)

مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھرتیوں کیلئے بڑے قومی اخبارات میں اشتہار لازمی ہو گا اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ یونیورسٹی کے خزانچی نئے بھرتی ہونیوالے ملازم کی پے سلپ جاری کرتے وقت ایک علیحدہ چیک لسٹ کو بھی سختی سے مد نظر رکھیں جس میں متعلقہ اخبار کے اشتہار کی کاپی لازمی شامل ہو جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں ڈائریکٹر فنانس/خزانچی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام اقرباء پروری کی حوصلہ شکنی‘آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کیلئے اٹھایا گیا ہے تا کہ آئندہ یونیورسٹیوں میں بھرتی کا عمل شفاف اور قواعد و ضوابط کے مطابق کیا جا سکے۔ سپیشل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن پنجاب احسان بھٹہ نے اس سلسلہ میں ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ چند یونیورسٹیز میں غیر قانونی بھرتیوں کی شکایات موصول ہوئی تھیں جس کے بعد ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے میرٹ کو یقینی بنانے کیلئے صوبہ بھر کی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :