امریکہ، سینٹرل پارکغلام عورتوں کے آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کے مجسمے سے محروم

"نفرت کی علامتوں " کو ہٹانے کے لئے قائم کردہ مشاورتی کمیٹی کی تجویز پر مجسمہ ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا

بدھ اپریل 18:44

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) نیویارک انتظامیہ نے امریکن غلام عورتوں کے آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کے مجسمے کو سینٹرل پارک سے ہٹا دیا گیا،شہر میں موجود "نفرت کی علامتوں " کو ہٹانے کے لئے قائم کردہ مشاورتی کمیٹی کی تجویز پر مجسمہ ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیویارک کی انتظامیہ نے 19 ویں صدی میں تجرباتی مقاصد کے ساتھ آفرو۔

امریکن غلام عورتوں کے آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کے مجسمے کو سینٹرل پارک سے ہٹا دیا گیا ہے۔۔امریکہ کے دارالحکومت نیویارک کی انتظامیہ نے 19 ویں صدی میں تجرباتی مقاصد کے ساتھ آفرو۔امریکن غلام عورتوں کے آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کے مجسمے کو سینٹرل پارک سے ہٹا دیا ہے۔شہری ڈیزائنگ کی کمیٹی نے کروائے گئے سروے کے بعد سینٹرل پارک میں نصب امراض نسواں کے ڈاکٹر جے۔

(جاری ہے)

مارئین سِمزکے مجسمے کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔کمیشن نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلدیہ مئیر بِل ڈی بلاسیو نے شہر میں موجود "نفرت کی علامتوں " کو ہٹانے کے موضوع پر کاروائیوں کے لئے قائم کردہ مشاورتی کمیٹی کی تجویز پر مجسمہ ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ سینٹرل پارک کے شمال مشرقی گوشے میں 103 شاہراہ کے داخلی حصے میں نصب کانسی کے مجسمے کو آج سنگ مرمر کے چبوترے سے اتار دیا گیا ہے۔مجسمے کو بروکلین قبرستان میں رکھا جائے گا کہ جہاں ڈاکڑ سِمز کی قبر ہے۔مجسمے کو نئی جگہ پر اس تحریر کے حامل کتبے کے ساتھ نمائش کیا جائے گا کہ سِمز غلاموں پر ان کی مرضی کے بغیر تجربات کرتا تھا۔

متعلقہ عنوان :