کوئٹہ، بلوچستان میں بسنے والی اقلیتوں خصوصاً مسیحوں کے جان و مال اور چرچز کے تحفظ کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں،بشپ امانت

بدھ اپریل 19:55

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) بشپ ڈاکٹر امانت مسیح نے صوبائی حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں بسنے والی اقلیتوں خصوصاً مسیحوں کے جان و مال اور چرچز کے تحفظ کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے مثالی صوبہ مانا جاتا تھا لیکن کچھ عرصے سے تسلسل کے ساتھ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس میں درجنوں افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں جسکے باعث اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے علاقے شاہ زمان روڈ پر ہونے والے واقعہ کو ذاتی دشمنی کا نام دیا گیا جسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بیت ایل میموریل چرچ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعہ میں جاں بحق اورزخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ کیلئے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کمپنسیشن پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا جسکے باعث متاثرہ خاندان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیںحکومت فوری طور پر متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو کمپنسیشن کی رقم ادا کرے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں بسنے والی اقلیتوں کے جان و مال اور چرچز کی حفاظت کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔