موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس درآمدات پر نافذ ٹیکسوں، ڈیوٹیز کو کم کیا جائے، مفسر ملک

ٹیکسوں و ڈیوٹیز سے اسپیئر پارٹس کی لاگت میںً85 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے، صدر کراچی چیمبر

بدھ اپریل 20:19

موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس درآمدات پر نافذ ٹیکسوں، ڈیوٹیز کو کم کیا ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے صدرمفسر عطا ملک نے موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس پر غیر ضروری اور بے پناہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کو تجویز دی ہے کہ ان ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں کمی کی جائے تاکہ اسپیئر پارٹس کی بڑھتی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہو سکے اور عوام کو ریلیف مہیا کیا جاسکے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ موٹر سائیکل عموماً سوسائٹی کے نچلے اور غریب طبقے کی سستی سواری ہے لیکن موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس پر نافذ بے پناہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کا بوجھ عوام الناس کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان ٹیکسوں و ڈیوٹیز اور دیگر اخراجات کی وجہ سے درآمدی اسپیئر پارٹس کی لاگت میں تقریباً 85 فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

انھوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس پر 35فیصد کسٹم ڈیوٹی، 11فیصد اضافی ڈیوٹی، 17فیصد سیلز ٹیکس، 6فیصد انکم ٹیکس اور 3فیصد اضافی سیلز ٹیکس نافذ ہے جن کے باعث اسپیئر پارٹس کی لاگت بری طرح متاثر ہوتی ہے اور یہ پارٹس غریب عوام کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں لہذا حکومت تمام تر صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے ان ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کو کم کرنے کے اقدامات عمل میں لائے تاکہ عوام الناس کو کچھ ریلیف مل سکے جو مہنگائی کے اس دور میں پہلے سے ہی بری طرح سے متاثر ہو رہے ہیں۔

مفسر ملک نے کہا کہ ان دنوں موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس کے درآمدکنندگان نے بے پناہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی وجہ سے اپنی کاروباری سرگرمیاں محدود کردی ہیں کیونکہ ایسے حالات میں درآمد کئے جانے والے اسپیئر پارٹس مقامی مارکیٹوں میں مسابقت نہیں کر پارہے بالخصوص ایسی صورت حال میں جب انہی اسپیئر پارٹس کو بھاری مقدار میں ملک بھر میں اسمگل کیا جارہا ہو۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس کی وسیع پیمانے پر ہونے والی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے سخت اقداما ت عمل میں لانے ہی ہوں گے تاکہ ان پارٹس کی قانونی درآمدات کو فروغ حاصل ہو اور ساتھ ہی موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس کی اسمگلنگ سے ہونے والے خطیر نقصانات سے قومی خزانے کو بچایا جاسکے ۔انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ ایف بی آر حکام ترجیحی بنیادوں پر پوری صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے آنے والے بجٹ میں اس سلسلے میں ریلیف کو یقینی بنائیں گے جس کا نہ صرف متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بلکہ عام عوام بھی یقینی طور پر بھرپور خیر مقدم کریں گے۔