موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس درآمدات پر نافذ ٹیکسوں، ڈیوٹیز کو کم کیا جائے، مفسر ملک

بدھ اپریل 22:25

موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس درآمدات پر نافذ ٹیکسوں، ڈیوٹیز کو کم کیا ..
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے صدرمفسر عطا ملک نے موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس پر غیر ضروری اور بے پناہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کو تجویز دی ہے کہ ان ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں کمی کی جائے تاکہ اسپیئر پارٹس کی بڑھتی اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہو سکے اور عوام کو ریلیف مہیا کیا جاسکے۔

بدھ کو جاری کردہ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ موٹر سائیکل عموماً سوسائٹی کے نچلے اور غریب طبقے کی سستی سواری ہے لیکن موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس پر نافذ بے پناہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کا بوجھ عوام الناس کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان ٹیکسوں و ڈیوٹیز اور دیگر اخراجات کی وجہ سے درآمدی اسپیئر پارٹس کی لاگت میں تقریباً 85 فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس پر اضافی ٹیکس کے باعث اسپیئر پارٹس کی لاگت متاثر ہوتی ہے اور یہ پارٹس غریب عوام کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں لہذا حکومت تمام تر صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے ان ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کو کم کرنے کے اقدامات عمل میں لائے تاکہ عوام الناس کو کچھ ریلیف مل سکے۔ مفسر ملک نے کہا کہ حکومت کو موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس کی وسیع پیمانے پر ہونے والی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے سخت اقدامات عمل میں لانے ہوں گے تاکہ ان پارٹس کی قانونی درآمدات کو فروغ حاصل ہو اور ساتھ ہی موٹر سائیکل اسپیئر پارٹس کی اسمگلنگ سے ہونے والے خطیر نقصانات سے قومی خزانے کو بچایا جاسکے۔

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ایف بی آر حکام ترجیحی بنیادوں پر پوری صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے آنے والے بجٹ میں اس سلسلے میں ریلیف کو یقینی بنائیں گے جس کا نہ صرف متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بلکہ عام عوام بھی یقینی طور پر بھرپور خیر مقدم کریں گے۔