محکمہ جنگلات کی سرپرستی میں’’ پنجاب ریشم کی پیداوار ‘‘میں آگے نکل گیا ،ْ

صوبہ کی مجموعی پیداوار میں 11میٹرک ٹن کا اضافہ، رواں سال فی خاندان کو 30 سے 50ہزار روپے تک کی آمدن ہوئی جبکہ سینکڑوں خاندانوں نے صرف ایک ماہ میں ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد رقم کمائی، محمد فاروق بھٹی

جمعرات اپریل 13:28

لاہور۔19 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) محکمہ جنگلاب پنجاب کی سرپرستی میںشعبہ سیری کلچر ریشم کی پیداوار میں آگے نکل گیا ،ْ صوبہ کی مجموعی پیداوار 11میٹرک ٹن سے بھی تجاوز کر گئی ہے جبکہ پی اینڈ ڈی کی رپورٹ 2014ء کے مطابق ملک میں خام ریشم کی طلب میں ہر سال 500 ٹن کا اضافہ ہو رہا ہے جس کی شرح 5فیصد بنتی ہے جو مقامی سطح سے حاصل نہ ہونے کے باعث دوسرے ممالک سے درآمدات کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر سیریکلچر جنگلات محمد فاروق بھٹی نے بتایا کہ طلب پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت دنیا میں53.5فیصد مصنوعی ریشم بن رہی ہے جو جلدی امراض کے ساتھ ساتھ انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کر رہی ہے جبکہ مقامی پیداوار نہ ہونے کی وجہ سے ٹیکسٹائل سیکٹر غیر معیاری ریشم مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات سالانہ ایک ارب روپے سے زائد کا روزگار غریب دیہی خاندانوں کو مہیا کر کے نہ صرف ریشم کی مقامی پیداوار ی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے بلکہ غربت کے خاتمے کیلئے کی جانیوالی حکومتی کوششوں میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے، ریشم سازی ایک گھریلو صنعت ہے جس میں خاندان کے تمام افراد حصہ لے سکتے ہیں اور گھر بیٹھے ہزاروں روپے کما سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال ایک خاندان کو 30 ہزار سے 50000 روپے تک کی آمدن ہوئی ہے جبکہ سینکڑوں خاندانوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد رقم کی صرف ایک ماہ کی قلیل مدت میں آمدن حاصل کی، اگر جنگلوں میں شہتوت کے درختوں کی کاشت کو بڑھایا جائے توریشم پال حضرات بآسانی اور وافر مقدار میں پتہ حاصل کر سکیں گے اور معیاری سلک سیڈ مہیا کیا جائے تو ملک ریشم کی پیداوار میں خود کفیل ہوسکتاہے۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ حالات میں محکمہ میں ماہرین اور معیاری سلک سیڈ کی کمی کا بھی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف دو ڈبیوں سے ایک ماہ میں ڈھائی سو خاندانوں کو 50سے 60لاکھ آمدن ہوئی جبکہ خام ریشم کی پیداوار میں بہتری آئی ہے۔ مقامی ٹھیکیداروں کا کہنا ہے اگر حکومت ریشم سازی کی صنعت پرتوجہ دے تونہ صرف زرمبادلہ بچایاجاسکتاہے بلکہ لاکھوں خاندانوں کو روگاز بھی فراہم کیاجاسکتاہے ۔کیڑے پال حضرات نے اس بات پرزور دیا کہ سیری کلچر جاپان ،چائنہ ،کوریاسے ۱یک ہزار پیکٹ سیڈ درآمد کروائے تو پیداوار میں 4سے 5گنا اضافہ ہوسکتاہے ۔

متعلقہ عنوان :