عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی جو نہ کرسکی ،ْ

اب ہم کرینگے ،ْ چیف جسٹس ثاقب نثار

جمعرات اپریل 14:30

عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی جو نہ کرسکی ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری تھی جو وہ نہ کرسکی۔ جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہر اتوار کو یہاں عدالت لگانے آجاتا ہوں ،ْعوام کوبنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری تھی، حکومت نہیں کرسکی اب ہم کریں گے۔

دوسری جانب چیف جسٹس نے پشاور میں الرازی میڈیکل کالج کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے نجی کالج کی جانب سے طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہاسٹل، ٹرانسپورٹ اور لیبارٹری کینام پر طلبہ سیلاکھوں روپے لیے جارہے ہیں تاہم ان کو سہولیات کی فراہمی بہت کم ہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ایف آئی اے کو نجی میڈیکل کالج کا ریکارڈ قبضے میں لینے کا حکم دیا۔علاوہ ازیں چیف جسٹس نے پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا، اس موقع پر آئی جی کے پی کے اور محکمہ صحت کے حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔۔چیف جسٹس کے دورے کے موقع پر ہسپتال میں موجود شہریوں نے شکایات کے انبات لگاردیئے۔شہریوں نے شکوہ کیا کہ سیکیورٹی نہیں، علاج نہیں، کوئی تبدیلی نہیں آئی ،ْچیف جسٹس صاحب آپ سے توقعات ہیں۔