انتخابات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، احتساب کا عمل جاری رکھا جاسکتا ہے ، علامہ ساجد نقوی

بیان بازی کی نسبت انصاف پر مبنی فیصلے آنے چاہیں، جوڈیشل ایکٹویزم کا فائدہ عوام کو بھی ہونا چاہیے

جمعرات اپریل 20:11

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) قائد ملت جعفریہ پاکستان اور اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ سید ساجدعلی نقوی سے علامہ سید سبطین حیدر سبزواری کی قیادت میں پنجاب کی کابینہ کے ارکان نے ملاقات کی اور تنظیمی امور ، سیاسی حکمت عملی اور قومی معاملات پر رہنما ئی حاصل کی۔ ملاقات میں مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی اور صوبائی کابینہ کے ارکان ایم ایچ نقوی، ساجد حسین نقوی، مولانا غلام قاسم جعفری، جعفر نقوی، نزاکت حسین نقوی، اوربابر مرتضیٰ بھی موجود تھے۔

قائد ملت جعفریہ کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال خصوصاً متحدہ مجلس عمل کی تشکیل کے بعد سیاسی لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔دینی جماعتوں کے اتحاد میں اہم کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گی۔

(جاری ہے)

علامہ ساجد نقوی نے صوبائی تنظیم کو ہدایت کی کہ ایم ایم اے کی رکن جماعتوں کے ساتھ مل کر ضلعی تنظیموںکی تشکیل کو جلد مکمل کیا جائے۔

قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کی فہرستوں کو حتمی شکل دی جائے۔ کارکن رابطہ عوام مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو منتخب کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون ، احترام اور محبتوں کو فروغ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دینی جماعتوں کے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے سے عوام کو متبادل سیاسی پلیٹ فارم میسر آ چکا ہے ۔

اتحاد بین المسلمین کی فضا بہتر بنانے میں ایم ایم اے نے ماضی میں بھی بہتر کردار ادا کیا اب بھی کرے گی۔ انہوںنے کہا کہ عدلیہ کا ملکی معاملات میں اہم کردار ہے۔ ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جانا چاہیے، تاکہ جوڈیشل ایکٹویزم کا فائدہ عوام کو بھی ہو۔ جوکہ اب تک نچلی سطح پر نظر نہیں آرہا۔عدالتی نظام کو انصاف کی فراہمی کے لئے تیز کیا جانا چاہیے۔

علامہ ساجد علی نقوی نے اسلامی تحریک کے رہنماوںکو عوام سے قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوںنے کہا کہ تمام جمہوری قوتیں متفق ہیں کہ انتخابات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ادارے مضبوط ہوں تو احتساب کا عمل جاری رکھا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس میں کسی جماعت کو ہدف بنائے جانے کے تاثر ختم ہونا چاہیے۔ بیان بازی کی نسبت انصاف پر مبنی فیصلے آنے چاہیں۔ شکیل)