بھارت؛ مکہ مسجد دھماکہ،ملزمان بری کرنیوالے جج کا استعفیٰ مسترد

جمعرات اپریل 22:06

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) بھارتی ہائی کورٹ نے مکہ مسجد دھماکہ کیس کے پانچ ملزمان کو بری کرنیوالے جج کا استعفیٰ مسترد کر دیا ہے اور ان کو جلد از جلد اپنے فرائض کی انجام دہی پر واپسی کا حکم دیدیا ہے،حیدرآباد دکن کی ایک خصوصی عدالت کے جج نے پانچ روز قبل 2007 کے مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں پانچوں ہندو ملزمان کو بری کردیا تھا،تاہم فیصلے کیچند گھنٹے بعد انہوں نے استعفیٰ دیدیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمان پر مسجد میں بم دھماکہ کرنے کا الزام تھا جس میںنوافرادجاں بحق جبکہ58 زخمی ہوگئے تھے۔تفتیش کے بعد مرکزی تفتیشی بیورو اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے فرد جرم میں کہا تھا کہ یہ لوگ ایک ہندو شدت پسند تنظیم سے وابستہ تھے،عدالت نے کہا تھاکہ ملزمان کیخلاف ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے جاسکے۔

(جاری ہے)

ان میں سب سے اہم ملزم سوامی اسیم آنند تھا جس نے تفتیش کے دوران اقبال جرم کیا تھا لیکن بعد میں اپنا بیان واپس لے لیا تھا۔

مکہ مسجد میں دھماکے کے فوراً بعد پولیس کی فائرنگ میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اس کیس میں کرائم برانچ نے پہلے مسلمان نوجوانوں کو ملزم بنایا تھا لیکن سی بی آئی کی تفتیش کے بعد ان کیخلاف مقدمات ختم کرنے اور ایک ہندو شدت پسند تنظیم سے وابستہ افراد کیخلاف مقدمات قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔سوامی اسیم آنند کو مہاراشٹر کے مالیگاؤں،راجستھان کے اجمیر شریف اور سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین پر حملے سے متعلق مقدمات میں بھی ملزم بنایا گیا تھا لیکن اجمیر شریف بم دھماکہ کیس میں بھی اسے بری کر دیا گیا تھا،سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں وہ اب بھی ملزم ہے لیکن 2015 میں ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی تھی۔

ہندو شدت پسند تنظیم سے وابستہ ان لوگوں کیخلاف یہ کیس اس لیے اہم تھے کیونکہ تفتیشی ایجنسیوں نے پہلی مرتبہ یہ کہا تھا کہ دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ہندو بھی ملوث ہیں۔