صحبت پورگندم کی کٹائی شروع ،حکومتی سطح پر خریداری مراکز کھل نہیں سکے

حکومتی عدم دلچسپی کے باعث پانچ سالوں سے گرین بیلٹ نصیر ٓابادڈویژن زراعت کے حوالہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے

جمعرات اپریل 22:33

مانجھی پور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) صحبت پورگندم کی کٹائی شروع ہوگئی تاہم حکومتی سطح پر خریداری مراکز کھل نہیں سکے، حکومتی عدم دلچسپی کے باعث گزشتہ پانچ سالوں سے گرین بیلٹ نصیر ٓابادڈویژن زراعت کے حوالہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔امسال گندم کی پہلی فصل کی بہت ساری علاقوں میں شروع ہوکی ہے۔اور کٹائی کا یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے تاہم محکمہ فوڈ کی جانب خریداری مراکز نہیں کھل سکے اور حکومت روایتی حربوں کے تحت خواب لاپرواہی میں مبتلا ء ہے۔

کیونکہ محکمہ فوڈ تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے دیر سے مراکز کھولتی ہے اور پھر من مانے طریقوں سے کمیشن مبینہ طور پر لیتی رہی ہے اور فی من کے حساب سے مختلف ریٹ پر کمیشن کے ریٹ مقررکرتی ہے اور زراعت سے وابستہ خصوصآ نلے طبقہ کا زمیندار چحوٹا کسان اپنا گندم ارزان نرخوں پر بیچ دیتا ہے جبکہ اسی غریب کسان کیلئے بظاہر خریداری سینٹرز کھولنے کا کہا جاتا ہے مگر فائئدہ اعلی افسران،کمیشن ہولڈرز اوربڑے بڑے دعوی کرنے والوں کو ملتا ہے ۔

(جاری ہے)

جبکہ ھوٹا کسان اور زمیندار کو فائدہ نہیں دیا جارہا ہے، جسکی وجہ سے وہ اپنا گندم کا ٖصل اوپن مارکیٹ میں بینے پر مجبور ہے۔گندم کی اس فصل کی اچھی قیمت کی امید پر کسان نے اپنی بیٹی کی شادی کی امید سجا رکھی ہوگی، اور اسی گندم کی قیمت پر اس نے بیٹے کیلئے اچھے سکول،کالج میں داخلہ کا پلان بیایا ہوگا ،اور اسی گندم کی فصل کے اچھے قیمت کے حاصل ہونے پر مختلف سہانے خواب دیکھے ہونگے مگر بدقسمتی سے یا اعلی حکومتی مبینہ کرپٹ ،کمیشن ہولڈر ز کی نااہلی و کمیشن کی خواہش نے پیغمبرانہ پیشہ سے تلق رکھنے والے کسان وزمیندار سے اس کی خوشیاں چھین لی ہیں۔

اس سلسلہ میں گوٹھ علی محمد خان بلیدی کے زمیندار ایڈووکیٹ و بلوستان نیشنل پارٹی کے ڈسٹرکٹ ممبر صدام حسین بلیدی نے کہا کہ ضلع صحبت پور کے علاقہ ملگزار سے لیکر بلیدی بیلٹ جو لاکھوں ایکڑ زمیں پر گندم کی ٖفصل ہوتی ہے مگر بدقسمتی اور حکومتی عدم توجہی و کمیشن کلر کی بناء پر گندم خریداری مراکز نہیں کھل سکے، اس سلسلہ میں گوٹھ محمد خان کنرانی کے زمین دار ظہور خان کنرانی نے بتایا کہ گندم کی کٹائی گزشتہ ہفتہ سے زور سشور سے جاری ہے مگر تاحال خریداری مرکش نہیں کھل سکے اور نہ ہی کھلنی کی امید ہے ۔

اس تمام پس منظر میں وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے مطالبہ ہے کہ سابقہ حکومتوں کی غلط پالیوں کے بجائے بروقت گندم خریداری مراکز سینٹرز کھول کر کسانوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ شکیل)

متعلقہ عنوان :