ریاستی اداروں کوبدنام کرنے کی کسی بھی سازش کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائیگی،ممبران ایپکس کمیٹی

جمعرات اپریل 23:27

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) گورنر ہاوس پشاورمیں جمعرات کے روزایپکس کمیٹی کاایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں گورنر خیبر پختونخوا انجینئراقبال ظفرجھگڑا، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویزخٹک، کور کمانڈر پشاوراور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور عوامی مفاد کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے شرکاء نے امن و امان کی صورتحال میں بتدریج بہتری پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنزاور بحالی امن کے بعد Border Fencingاور باڈر منجیمنٹ کی کو ششوں کو سراہا گیا اور اس عمل میں تمام رکاوٹوں کا بھر پور مقابلہ کرنے کا اعادہ کیا گیا۔

(جاری ہے)

فاٹا / کے پی میں بحالی امن کے بعد ٹرانزیشن کے عمل کو بتدریج اور مربوط طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مختلف پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ فاٹا کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے مقامی حکومتوں کاقیام فوری طورپر عمل میں لایا جائے کمیٹی نے فاٹا میں اشیائے خوردونوش اورعارضی طورپر بے گھرافراد کے علاقوںمیں تعمیراتی میٹریل پرعائد ٹیکس ختم کرنے کوسراہا۔شرکاء نے قبائلی علاقہ جات اور ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کی بحالی اور ترقیاتی عمل میں عوام اور عمائدین کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں اور قربانیوں کو سراہااور اس عزم کااظہار کیا گیا، اداروں کو بدنام کرنے کی کسی بھی سازش کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائیگی اور بیش بہا قربانیوں سے حاصل کردہ امن کو سبوتاژ کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔

اس کے علاوہ اس عزم کااظہار بھی کیا گیا کہ حکومت تمام عناصر بشمول نوجوان طبقے کی جانب سے نشاندہی کردہ حل طلب عوامی مسائل پر آئین اور قانون کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے غورکرے گی۔کمیٹی نے اس بات پربھی اتفاق کیا کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کوفروغ دیاجائے اور اس سلسلے میں قومی عمائدین اور منتخب نمائندوں کی جاری کوششوں کو خوش آئندقرار دیا۔

ایپکس کمیٹی نے واضح کیا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انتہائی مشکل حالات میں قبائلی عوام، عمائدین اور منتخب نمائندوں نے امن کے قیام اور علاقے کی ترقی میں مثبت کردار ادا کیا ہے جو کہ قابلِ ستائش ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ موجودہ اور آئندہ مسائل کا حل بھی صرف قومی جرگے اورمقامی قیادت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایپکس کمیٹی کے ممبران نے زور دیا کہ قانون کی عمل داری کو ہر حال میں یقینی بنا یاجائے گا اور قبائل کو بنیادی حقوق اور سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

متعلقہ عنوان :