نئے اسلام آباد ائیر پورٹ میں سہولیات کا فقدان اور نا مکمل انفراسٹرکچر

ڈی جی سی اے اے نے تمام ذمہ داری مشیر ہوا بازی سردار مہتاب عباسی پر ڈا ل دی ، کھری کھری سنادیں دونوں شخصیات کے مابین تلخ کلامی

جمعرات اپریل 23:29

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) ڈائریکٹر جنرل سول ایسوسی ایشن اتھارٹی نے نئے اسلام آباد ائیر پورٹ میں سہولیات کے فقدان اور نا مکمل انفرا سٹرکچر کی ذمہ داری وزیر اعظم کے مشیر برائے ہوا بازی سردار مہتاب عباسی پر ڈالتے ہوئے انہیں موقع پر کھری کھری سنادیں۔ دونوں شخصیات کے مابین تلخ کلامی نئے اسلام آباد ائیر پورٹ پر اس وقت ہوئی جب مشیر ہوا بازی نے نئے ائیر پورٹ کی تکمیل میں تاخیر اور باتھ رومز سمیت بجلی ، پانی اور دیگر سہولیات کی عدم فراہمی پر سول ایوی ایشن کے افسران کو لتاڑنا شروع کیا تو ڈی جی سول ایوی ایشن نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ جناب اس سب صورتحال کے ذمہ دار آپ ہیں۔

آپ نے تمام ٹھیکے اپنے منظور نظر افراد کو دئیے جنہوں نے کسی بھی معاملے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کو رپورٹ نہیں کی ۔

(جاری ہے)

ان کنٹریکٹرز نے اخراجات کی تفصیلات سے بھی سی اے اے کو آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا ۔ ڈی جی نے مزید کہا کہ ایڈوائزر صاحب آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ انٹرنیشنل معیار کے باتھ رومز تو نئے ائیر پورٹ کے پلان میں شامل ہی نہیں۔

مشیر ہوا بازی ڈی جی کی ان باتوں کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ ذرائع کے مطابق اتھارٹی نئے ائیر پورٹ پر فلائیٹ آپریشن منتقل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ جاری شدہ فلائٹ آپریشن شیڈول تبدیل کرنا پڑا ہے ۔ تمام پروازیں پرانے ائیر پورٹ پر پہلے سے جاری شیڈول کے مطابق اٴْٓمد و رفت جاری رکھیں گی ۔ ذرائع کے مطابق بیگج بلٹ ، بجلی اور اے این ایف ، اے ایس ایف اور ائیر لائنز کے دفاتر سمتے بنیادی انفرا سٹرکچر حتٰی کہ بین الاقوامی اور ڈومیسٹک آمد و روانگی کے علاوہ ملازمین کے بیت الخلاء ناقابل استعمال ہیں۔

علاوہ ازیں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر سین (Cyan)نے بلا ضرورت 10اپریل 2018سے نئے ائیر پورٹ اسلام آباد پر پچاس سے زائد نئے افسران تعینات کردئیے ہیں جنہیں نئے ائیر پورٹ پر ہونے والے کاموں کی نگرانی کا کام سونپا گیا تھا ان افسران کو ٹی اے ڈی اے کی مد میں کھانے اور ٹرانسپورٹ کے علاوہ تین ہزار روپے سے زائد یومیہ ادائیگی کی جاتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق سول ایوی ایشن حکام کی جانب سے 3مئی تک افتتاح کی توسیع بھی ناکافی ہے جبکہ نئے ائیر پورٹ پر منتقل کیا جانیوالا دفتری سامان بھی واپس منتقل کیا جارہا ہے ۔ شکیل)

متعلقہ عنوان :