ڈائریکٹر جنرل نرسنگ کی لاہور جنرل ہسپتال کی 17 نرسسز کو تعریفی اسناد کی تقسیم کی تقریب

تعریف کے علاوہ احتساب کا عمل بھی جاری، ڈیوٹی کے دوران موبائل فون استعمال کرنے والی دو ہسپتالوں کی نرسوں کے خلاف انکوائری کا حکم

جمعرات اپریل 23:43

لاہور۔19 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) ڈائریکٹر جنرل نرسنگ پنجاب کوثر پروین نے کہا ہے کہ کسی بھی شعبے میں بہتر پرفارمنس کا اعتراف ہونا چاہیے اور نرسنگ کے میدان میں جزاء اور سزا کے اصول پر عملدرآمد مزید اہمیت کا حامل ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال کے نیورو سرجری یونٹ 2 میں 17 نرسوں میں تعریفی اسناد کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان نرسسز کی صلاحیتوں کا اعتراف دیگر کے لیے قابل تقلید ہے۔۔پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں پروفیسر آف نیورو سرجری ڈاکٹر خالد محمود نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اسناد حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دی جبکہ نرسنگ سپرنٹنڈنٹ رضیہ بانو اور ڈپٹی نرسنگ سپرنٹنڈنٹ رقیہ بانو بھی موجود تھیں۔

(جاری ہے)

اپنے خطاب میں ڈی جی نرسنگ نے کہا کہ پروفیسر خالد محمود نے نیورو سرجری کے میدان میں جدید تکنیک متعارف کرا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی ڈاکٹرز ہر چیلنج سے نمٹنے اور طب کے میدان میں جدت لانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ڈی جی نرسنگ نے کہا کہ تعریف کے علاوہ احتساب کا عمل بھی جاری ہے اورڈیوٹی کے دوران موبائل فون استعمال کرنے والی دو ہسپتالوں کی نرسوں کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نرسسز کی اعلی تعلیم و تربیت کے لیے چوتھا بیج ترکی بھجوایا ہے اور تربیت مکمل کرنے والی ماسٹر ٹرینرز واپس آ کر دیگر نرسسز کو بھی ٹریننگ دیں گی تا کہ مریضوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکیں۔ڈی جی نرسنگ کوثر پروین نے کہا کہ سپیشلائزیشن کرنے والی نرسسز کو متعلقہ وارڈز میں تعینات نہ کرنے والی نرسنگ سپرنٹنڈنٹ ذمہ دار ہونگی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلی بار پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے چارج نرسسز کی بھرتی عمل میں لائی گئی ہے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو، کوثر پروین نے کہا کہ ہماری نرسیں ٹیلنٹ اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اور صحیح کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی جاری رہے گی۔اس موقع پر لاہور جنرل ہسپتال کی 17 نرسوں میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔