کوئٹہ، بلوچستان اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام کی خاتون رکن اسمبلی کا اپنی ہی پارٹی کے رکن اسمبلی کے خلاف احتجاجاً واک آئوٹ

جب تک مذکورہ رکن معافی نہیں مانگے گی اس وقت تک اجلاس میں شرکت نہیں کرونگی سردار عبدالرحمان کھیتران نے ان سے معافی مانگنے پر انکار کر دیا

جمعرات اپریل 23:51

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) بلوچستان اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام کی خاتون رکن اسمبلی نے اپنی ہی پارٹی کے رکن اسمبلی کے خلاف احتجاجاً واک آئوٹ کیا اورکہا کہ جب تک مذکورہ رکن معافی نہیں مانگے گی اس وقت تک اجلاس میں شرکت نہیں کرونگی سردار عبدالرحمان کھیتران نے ان سے معافی مانگنے پر انکار کر دیا بلوچستان اسمبلی کا اجلاس راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں ہوا اجلاس میں توجہ دلائو نوٹس پر اظہار خیال کے دوران جے یوآئی کے رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے پرنسپل گرلز کالج کی ہڑتال کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ سول سوسائٹی اور وزیر تعلیم بھی مذکورہ پرنسپل کے پاس گئے اورانہیں گاڑی بھی دے دی حالانکہ اسے اس سے پہلے مسلسل کئی بار نوٹسز جاری ہوئے تھے ٹرانسفر پوسٹنگ سروس کا حصہ ہوتی ہے قانون کے مطابق ان سے گھر خالی کرایا گیا اس پر احتجاج نہیں کرنا چاہئے مگر سوشل میڈیا پر اس احتجاج کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا جس پر جے یوآئی ہی کی رکن شاہد ہ رئوف نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سردار کھیتران اس پرنسپل کا ساتھ دے رہے ہیں جن کا تعلق ان کے اپنے قبیلے سے ہے انہوںنے احتجاجاً اجلاس سے واک آئوٹ کیااس موقع پر سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ میں نے جس پرنسپل کی حمایت کی وہ یقینی طو رپر کھیتران ہے اور مجھے اس پر فخر ہے کہ وہ میرے قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے پر انکوائری کرائیں بعدازاں سپیکر نے خواتین ارکان کو واک آئوٹ کرنے والی رکن کو منانے کے لئے بھیجا تاہم وہ اجلاس میں نہیں آئیں یاسمین لہڑی نے ایوان کو بتایا کہ شاہدہ رئوف کا موقف ہے کہ سردار عبدالرحمان کھیتران کے ادا کئے گئے الفاظ سے انہیں تکلیف پہنچی ہے ان کے معذر ت کرنے تک وہ ایوان میں نہیں آئیں گی سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کی جس پر میں کوئی معذرت نہیں کروں گا سپیکر نے رولنگ دی کہ وہ دونوں معزز اراکین کو اس مسئلے پر اپنے چیمبر میں بلائیں گی۔