جاپان اور چین کا دفاعی تبادلہ منصوبہ بحال

جمعہ اپریل 10:10

ٹوکیو ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) جاپان اور چین کے مابین دفاعی افسران کے تبادلے کا ایک منصوبہ 6 سال کے تعطل کے بعد بحال کردیاگیا۔ جاپان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کے دفاعی افسران کے تبادلے کے منصوبہ کی بحالی کے بعد ٹوکیو میںجاپانی سیلف ڈیفنس فورسِز کے اعلیٰ افسران نے پیپلز لبریشن آرمی کے اپنے ہم منصبوں کا خیرمقدم کیا۔

چین کے 25 رٴْکنی وفد کے سربراہ میجر جنرل تسٴْوگٴْواوویئے نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے لئے قیمتی اثاثہ ہے۔ اٴْنہوں نے کہا کہ فریقین کو کسی بھی قسم کی مشکلات پر قابو پانے کے لئے تعاون کرنا چاہیئے اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لئے اہم کارگر قوّت بننا چاہیئے۔اٴْنہوں نے کہاکہافسران کا تبادلے باہمی اعتماد اور ادراک کی بنیاد تخلیق کرسکتے ہیں، منصوبہ طویل دورانیے تک جاری رہنے کی صورت میں اپنا حقیقی کردار ادا کرسکتا ہے۔

(جاری ہے)

یہ منصوبہ 2001ء میں شروع کیا گیا تھا۔ چین کی جانب سے 2012ء میں یہ تبادلے ملتوی کیے جانے تک ہر سال تبادلے ہوئے تھے۔ مذکورہ سال دورہ ملتوی کیے جانے سے قبل حکومتِ جاپان نے سینکاکٴْو جزائر کے بعض جزیروں کو ایک جاپانی مالک سے حاصل کیا تھا۔اِن جزائر پر جاپان کی عملداری ہے۔ حکومتِ جاپان کا موقف چلا آرہا ہے کہ یہ جزائر جاپان کی سرزمین کا موروثی حصّہ ہیں جبکہ چین اور تائیوان اِن جزائر کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :