لاہور ،سندھ یونیورسٹی کا اردو کو بطور ذریعہ تعلیم ختم کرنے کا فیصلہ قابل مذمت ہے،صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی

جمعہ اپریل 22:48

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور متحدہ مجلس عمل کے ترجمان صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ یونیورسٹی کا اردو کو بطور ذریعہ تعلیم ختم کرنے کا فیصلہ قابل مذمت ہے۔ سندھ یونیورسٹی کا یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے کیونکہ یہ فیصلہ قومی یکجہتی کے منافی اور 73 کے آئین کی خلاف ورزی ہے اس لئے سندھ یونیورسٹی اس فیصلے کو واپس لے۔

اردو زبان قومی یکجہتی کی علامت اور ننانوے فیصد عوام کے رابطے کی قومی زبان ہے اور سندھ میں عرصہ قدیم سے بولی جا رہی ہے۔ اردو زبان کے بارے میں ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چایئے کہ یہ سندھ کے عظیم صوفی شاعر سچل سرمست سے لے کر عہد حاضر کے عظیم شاعر شیخ ایاز کا بھی ذریعہ اظہار رہی ہے۔

(جاری ہے)

سندھ یونیورسٹی کے اس متعصبانہ فیصلے سے صوبائی اور لسانی تعصب کو ہوا ملے گی۔

اور سندھ میں آباد سندھی زبان نہ بولنے والے کروڑوں افراد کی تہذیبی اور آئینی حق تلفی ہو گی۔ ہم اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی کو کسی بھی ایسے اقدام سے باز رہنا چایئے جس سے لسانیت کو فروغ حاصل ہو۔ صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نے میڈیا کو جاری کئے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سندھ یونیورسٹی نے اردو کو ذریعہ تعلیم کے طور پر ختم کرنے کا ناروا فیصلہ واپس نہ لیا تو جے یو پی احتجاج کی کال دینے پر مجبور ہو گی۔

وفاقی اور سندھ حکومت سندھ یونیورسٹی کے اردو مخالف فیصلے کا نوٹس لے۔ اس فیصلے سے اردو بولنے والے طبقے میں تشویش اور اضطراب پیدا ہو چکا ہے۔ قوم کو لسانیت نہیں پاکستانیت کی ضرورت ہے۔ سندھ یونیورسٹی میں سندھی اور انگریزی ضرور پڑھائی جائے لیکن اردو پر پابندی نہ لگائی جائے۔ اردو کے نفاذ کے حق میں سپریم کورٹ فیصلہ سنا چکی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق سرکاری دفاتر میں بھی اردو کو رائج کیا جائے۔ مغرب سے مرعوب طبقہ قوم سے قومی زبان چھینے کی سازش کر رہا ہے۔