14 میں کویت پر حملہ غلطی تھا،کویت ہرجانہ ادا کرنے کے لیے تیار

عراق نے چڑھائی کے فیصلے کی غلطی مانتے ہوئے کویت کو 90 ملین ڈالر کی رقم ادا کرنے کا اعلان کردیا

ہفتہ اپریل 11:30

جنیوا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) عراقی حکام نے سنہ 1990ء میں سابق مصلوب صدر صدام حسین کے دور میں کویت پر حملے کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کویت کا اس کا ہرجانہ ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب عراق نے خلیجی ریاست پر چڑھائی کے فیصلے کی غلطی مانتے ہوئے کویت کو 90 ملین ڈالر کی رقم ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ کی زیر نگرانی عراق کی طرف سے کویت کو ہرجانے کی ادائیگی کا معاملہ 2014ء میں زیر بحث آیا تھا۔

اس وقت بھی بغداد حکومت نے کویت کو ہرجانہ ادا کرنے کا اعلان کیا تھا مگر انتہا پسندوں کی جانب سے عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کیے جانے کے باعث یہ معاملہ التواء کا شکار ہوگیا تھا۔1991ء میں سلامتی کونسل نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جسے صدام حسین کے دور میں بیرون ملک کاروائیوں بالخصوص کویت پر حملے کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

(جاری ہے)

کمیشن کی ذمہ داری میں یہ شامل تھا کہ وہ کویت کو ہونے والے نقصان کے ہرجانے کا تخمینہ لگائے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ عراق کویت پر قبضے کے دوران کمپنیوں اور افراد کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے طور پر 52 ارب 40 کروڑ کی رقم ادا کرے۔ یہ رقم عراق کی تیل مصنوعات پر ٹیکس عاید کرنے وصول کیے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔کمیٹی نے پندرہ لاکھ شکایات کنندہ افراد اور کمپنیوں کو 47 ارب 90 کروڑ کی رقم ادا کرنے سے اتفاق کیا تھا۔