سپریم کورٹ کاپنجاب کی متعدد سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو مستعفیٰ ہونے کا حکم

سرچ کمیٹی کو چھ ہفتوں میں میرٹ پر مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتیاں یقینی بنانے کی ہدایت

اتوار اپریل 16:40

لاہور۔22 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے پنجاب کی متعدد سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو مستعفیٰ ہونے کا حکم دیدیا۔عدالت نے چھ ہفتوں میں میرٹ پر مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی ، اتوار کے روز سپر یم کورٹ لاہور رجسٹری میںچیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے میرٹ کے برعکس وائس چانسلرز کی تعیناتی پر از خود نوٹس کی ساعت کی۔

عدالتی سماعت کے موقع پرپنجاب یونیورسٹی کے مستعفی وائس چانسلر ڈاکٹر ذکریا ذاکر اپنی داد رسی کیلئے عدالت میں پیش ہوئے اور التجا ء کی کہ ایک لغزش ہوئی معافی دی جائے مجھے سرچ کمیٹی نے میرٹ پر تعینات کیا، لیکن مستقل نہیں کیا گیا۔جس پر چیف جسٹس کہا کہ اسی لئے مستقل نہیں کیا گیا تا کہ من پسند فیصلے لئے جا سکیں۔

(جاری ہے)

پہلے ہی درگزر سے کام لیا اگر میرٹ پر آتے ہیں تو دوبارہ اپلائی کر دیں،۔

عدالت نے کالج فار وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلرڈاکٹر عظمیٰ قریشی کو بھی معطل کردیا اور قرار دیا کہ سینئرز کو کیسے نظر انداز کر دیا گیا، عدالت نے فاطمہ جناح یونیورسٹی،راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی،فیصل آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کو فوری مستعفیٰ ہونے کا حکم دیدیا،،چیف جسٹس نے رزاق دائود، عمر سیف، ظفر اقبال قریشی پر مشتمل سرچ کمیٹی کو چھ ہفتوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی یقینی بنانے کے احکامات جاری کردیئے۔