واٹر بورڈ کراچی شہر سے پانی کی قلت کو ختم کرے اور ضلع غربی میں ایک ملین گیلن پانی مہیا کرے، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت

لیاری اور شیریں جناح کے علاقوں میں بند آر او پلانٹس شروع کروا کر دو دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت اس وقت ضلع غربی اورنگی ٹائون، بلدیہ ٹائون ، سائٹ ایریا، گڈاپ ٹائون اور نارتھ ناظم آباد ٹائون کے کچھ حصہ میں پانی کی قلت کا سامنا ہے، وزیر بلدیات

اتوار اپریل 18:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ شہر کراچی سے پانی کی قلت کو ختم کیا جائے اور ضلع غربی میں ایک ملین گیلن پانی مہیا کیئے جائیں۔ انہوں نے لیاری اور شیریں جناح کے علاقوں میں بند آر او پلانٹس شروع کروا کر دو دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے یہ احکامات کراچی میں پانی صورتحال کے متعلق اتوار کو سندھ سیکریٹریٹ میں فنانس ڈپارٹمنٹ ے کمیٹی روم میں اجلاس کی صدارات کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری سندھ رضوان میمن ، صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو، وزیر اعلی سندھ کے پرنسپل سیکرٹری سہیل راجپوت، ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر ، صوبائی سیکرٹری آصف حیدر شاہ ، کمشنر کراچی اعجاز علی خان ، ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ایس ڈبلیو بی) خالد شیخ ، کراچی ڈویزن کے ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ عملدار شریک تھے۔

(جاری ہے)

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو نے بتایا کہ کراچی کو پانی سپلائی ے دو اہم ذرائع ہیں، کینجھر اور حب ڈیم ہیں اور تین پمپنگ اسٹیشنز دھابیجی ، گھارو اور حب ہیں۔ عمومی طور پر دریائے سندھ سے 550 ایم جی ڈی اور حب سے 100 ایم جی ڈی پانی ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کی آبادی 17 ملین ہے اور پانی کی ضرورت 918 ایم جی ڈی ہے ۔

اس وقت 480 ایم جی ڈی پانی مل رہا ہے جوکہ دریائے سندھ سے 450 ایم جی ڈی اور حب 30 ایم جی ڈی پانی فراہم ہو رہا ہے، جب کہ 918 ایم جی ڈی پانی کی مانگ ہے اور 480 ایم جی ڈی پانی فراہم ہو رہاہے اس حساب سے 438 ایم جی ڈی قلت کا سامنہ ہے ۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ دو مہینے اہم ہیں اور میں چاہتا ہوں اس میں پانی کی قلت پر کنٹرول کیا جائے ۔

جام خان شورو نے مزید بتایا کہ جن علاقوں میں پانی کی قلت ہے ان میں ضلع غربی اور ضلع وسطی شامل ہیں۔ اس وقت ضلع غربی اورنگی ٹائون، بلدیہ ٹائون ، سائٹ ایریا، گڈاپ ٹائون اور نارتھ ناظم آباد ٹائون کے کچھ حصہ میں پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ وزیر اعلی سندھ نے معلوم کرتے ہوئے سوال کیا کہ ان علاقوں میں قلت کیوں ہے ۔ وزیر بلدیا نے بتایاکہ یہ علاقے حب ڈیم پر انحصار کرتیہیں اور حب ڈیم خشک ہوتا جا رہا ہے ۔

ایم ڈی کے ڈبلیو ایس بی خالد شیخ نے اجلاس میں بتایا کہ حب سے سپلائی 115 ایم جی ڈی سے 30 ایم جی ڈی کم ہو گئی ہے ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ لیاری احمد شاہ ے علاقے کا آر او پلانٹ اور سول لائن، شیرین جناح کا آر او پلانٹ بجلی بل کی عدم ادائگی کی وجہ سے بند ہیں ۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے برہمی کااظہار کرتے ہو کہا کہ یہ کیسے عدم ادائگی کی وجہ سے بند ہو گئی ۔

انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ان آرو پلانٹس کی بجلی بحال کرکے اور آر او پلانٹس کو شروع کروا کر کل تک رپورٹ کریں ۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے فیصلہ کرتے ہوئے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو ہدایت کی کہ ضلع غربی میں ایک ملین گیلن ٹینکرز ے ذریعے پانی مہیا کیا جائے۔ اس وقت ضلع غربی میں 257 ٹینکرز کام کر رہے ہیں اور 100مزید بڑھائے جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اسی طرح تمام اضلاع ے ڈپٹی کمشنرز کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سے پانی کی ٹینکر لیکر اپنے اپنے علاقوں میں پانی کی قلت کو پورا کیا جائے۔