حکومت پنجاب قانون کے مطابق اختیارات استعمال کرے، قدرتی چشمے پر کسی کا حق نہیں ہے، قدرتی چشمے کا پانی استعمال کرنا ایک غیر قانونی اقدام ہے،سی پیک نہ ہوتا تو ایک لمحے میں فیکٹری بند کر دیتے، ماحولیاتی ایجنسی کو زیر زمین پانی استعمال کرنے کی اجازت کا اختیار نہیں،ماحولیاتی ایجنسی کے جن افسروں نے اجازت دی انہیں نہیں چھوڑوں گا،افسروں نے کس طرح اربوں روپے کے پانی کے استعمال کی اجازت دی پانی کی جوحالت ہے آئندہ آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی،ڈیمز بنا کر پانی کو محفوظ کرنے کے لیے کچھ نہیں کرنا لوگوں کو پانی میسر نہیں ذمہ دار کون ہی

چیف جسٹس ثاقب نثار کے کٹاس راج مندر سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس پوٹھوہار خطے میں چھوٹے ڈیم بنائے جا سکتے ہیں،جسٹس عمر عطا بندیال

پیر اپریل 15:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت پنجاب قانون کے مطابق اختیارات استعمال کرے، قدرتی چشمے پر کسی کا حق نہیں ہے، قدرتی چشمے کا پانی استعمال کرنا ایک غیر قانونی اقدام ہے،۔۔سی پیک نہ ہوتا تو ایک لمحے میں فیکٹری بند کر دیتے، ماحولیاتی ایجنسی کو زیر زمین پانی استعمال کرنے کی اجازت کا اختیار نہیں۔

ماحولیاتی ایجنسی کے جن افسروں نے اجازت دی انہیں نہیں چھوڑوں گا۔افسروں نے کس طرح اربوں روپے کے پانی کے استعمال کی اجازت دی پانی کی جوحالت ہے آئندہ آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔ ڈیمز بنا کر پانی کو محفوظ کرنے کے لیے کچھ نہیں کرنا لوگوں کو پانی میسر نہیں ذمہ دار کون ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پوٹھوہار خطے میں چھوٹے ڈیم بنائے جا سکتے ہیں ۔

(جاری ہے)

پیر کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں کٹاس راج مندر سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ رات مجھے ایک پیغام موصول ہوا کہ ایک سیمنٹ فیکٹری میری ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہی ہے،ہو سکتا ہے کہ کسی نے مذاق کیا ہو۔ وکیل سیمنٹ فیکٹری نے کہا کہ یہ پیغام ہماری طرف سے نہیں ہو سکتا۔ہم قدرتی چشمے سے پانی کی ضرورت پوری کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قدرتی چشمے پر کسی کا حق نہیں ہے۔ قدرتی چشمے کا پانی استعمال کرنا ایک غیر قانونی اقدام ہے۔ ہمارا مقصد معاملے کا حل نکالنا ہے۔۔سی پیک نہ ہوتا تو ایک لمحے میں فیکٹری بند کر دیتے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پوٹھوہار خطے میں چھوٹے ڈیم بنائے جا سکتے ہیں، ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ فیکٹری عرصے سے زیر زمین پانی استعمال کر رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ماحولیاتی ایجنسی کو زیر زمین پانی استعمال کرنے کی اجازت کا اختیار نہیں۔ماحولیاتی ایجنسی کے جن افسروں نے اجازت دی انہیں نہیں چھوڑوں گا۔افسروں نے کس طرح اربوں روپے کے پانی کے استعمال کی اجازت دی ہر سال 7 ارب روپے کا پانی فیکٹری استعمال کرتی ہے۔ جب سے فیکٹری لگی ہے حساب کریں تو اربوں روپے کا پانی بن جاتا ہے۔ یہ صرف کٹاس راج کا معاملہ نہیں ہے۔

حکومت پنجاب قانون کے مطابق اختیار استعمال کرے۔ فیکٹری مالکانن کو صرف پیسے کمانے کا رومانس ہے۔ پانی کی جو حالت ہیآئندہ آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔ ڈیمز بنا کر پانی کو محفوظ کرنے کے لیے کچھ نہیں کرنا لوگوں کو پانی میسر نہیں ذمہ دار کون ہی چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ علاقہ میں پانی کی کمی سے مویشی مر رہے ہیں۔