قصور میں جعلی پولیس مقابلے میں مدثر کو ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار کی عدم پیشی کپر اسکے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

لاہور ہائیکورٹ نیدرخواست پر مزید کارروائی 27 اپریل تک ملتوی کر دی

پیر اپریل 23:35

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے قصور میں جعلی پولیس مقابلے میں مدثر کو ہلاک کرنے والے پولیس اہلکار ریاض عباس کی عدم پیشی کے باعث ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے درخواست پر مزید کارروائی 27 اپریل تک ملتوی کر دی تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار الحق نے محکمہ پراسکیوشن کی پولیس افسروں کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت کی عدالت نے قصور میں مدثر نامی شخص کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کرنے والا پولیس اہلکار ریاض عباس کی عدم پیشی پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے جعلی پولیس مقابلے میں نامزد ایک اور پولیس اہلکار یونس ڈوگر اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ یونس ڈوگر مدثر کے قتل میں ملوث نہیں جبکہ قتل کے مقدمے میں نامزد مزید دو اہلکاروں طارق بشیر چیمہ اور محمد اشرف نے ماتحت عدلیہ سے ضمانتیں خارج ہونے کے بعد قبل از گرفتاری ضمانت کے لیے پائیکورٹ سے رجوع کر لیا ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عبدالصمد خان نے عدالت کو بتایا کہ قصور پولیس نے ایمان فاطمہ کو قتل کرنے کے الزام میں مدثر کو جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا، ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل نے کیا کہاپولیس افسروں نے مدثر کو گھر سے گرفتار کر کے جعلی پولیس مقابلہ کیا، پولیس تفتیشی پینل کی تحقیقات میں ایس ایچ او طارق بشیر چیمہ اور اسکے گن مین نے مدثر کو گولیاں ماریں، پراسکیوشن نے آگاہ کیا کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم یونس ڈوگر اور ریاض عباس کی عبوری ضمانت منظور کر رکھی ہے،جبکہ ماتحت عدلیہ پولیس اہلکار طارق بشیر چیمہ اور محمد اشرف کی درخواست ضمانت خارج کر چکی ہے ایڈہشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے استدعا کی کہ عدالت ملزمان پولیس افسروں کی عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج کرے اور ملزموں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جائے،درخواست پر مزید کارروائی 27 اپریل کو ہو گی۔