پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس

پٹرولیم ڈویژن کے ماتحت اداروں پی ایس او اور سوئی سدرن گیس لمیٹڈ سمیت تمام اداروں میں تھرڈ پارٹی کے ذریعے خدمات حاصل کرنے کے عمل کو روکنے کا حکم تمام ملازمین کو مستقل کرکے تھرڈ پارٹی سسٹم ختم کرنے کی ہدایت، پٹرولیم ڈویژن کے تمام ماتحت اداروں میں تھرڈ پارٹی ادائیگیوں کی تفصیلات بھی طلب

منگل اپریل 14:45

پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے پٹرولیم ڈویژن کے ماتحت اداروں پی ایس او اور سوئی سدرن گیس لمیٹڈ سمیت تمام اداروں میں تھرڈ پارٹی کے ذریعے خدمات حاصل کرنے کے عمل کو روکنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی یہ روش فی الفور ختم کی جائے اور تمام ملازمین کو مستقل کرکے تھرڈ پارٹی سسٹم سے جان چھڑائی جائے، پی اے سی نے پٹرولیم ڈویژن کے تمام ماتحت اداروں میں تھرڈ پارٹی ادائیگیوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔

اجلاس منگل کو پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان شیخ روحیل اصغر، راجہ جاوید اخلاص، سردار عاشق حسین گوپانگ، سید نوید قمر، ڈاکٹر عذرا افضل، جعفر خان لغاری اور خالد مقبول صدیقی سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن، پٹرولیم ڈویژن اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے 2016-17ء کے آڈٹ اعتراضات کاجائزہ لیا گیا۔

پٹرولیم ڈویژن کے آڈٹ اعتراضات کے جائزے کے دوران آڈٹ حکام نے بتایاکہ خدمات کے عوض پی ایس او کی جانب سے خلاف قواعد 42 کروڑ سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔ ایم ڈی پی ایس او نے بتایا کہ پی ایس او کے لئے خدمات سر انجام دینے والے 210 افراد نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، سپریم کورٹ نے انہیں مستقل کرنے کے احکامات دیئے جبکہ باقی 700 سے زائد افراد کو کنٹریکٹ پر ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔

ایم ڈی کو ادارے کے لئے ورکروں کی بھرتی کرنے کا اختیار ہے۔ 2009ء تک کمپنی کے پاس اختیار تھا مگر پی اے سی کے حکم کے بعد اب ہم پیپرا رولز کے پابند ہیں۔ عاشق حسین گوپانگ نے کہا کہ 2004ء میں پیپرا رولز بن گئے تھے ان پر عملدرآمد میں تاخیر بھی غیر قانونی اقدام ہے۔ سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ کمپنی کو خود بھرتیاں کرنی چاہئیں، کمیٹی کی رپورٹ کی حمایت کرتا ہوں، ایف آئی اے بھی ان بے قاعدگیوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔

سید خورشید احمد شاہ نے کہاکہ جب ملازمین کو مستقل کردیا جائے گا تو تھرڈ پارٹی خود بخود ختم ہو جائے گی، تھرڈ پارٹی کا تصور ختم کیاجائے ۔ ملازمین کو کم سے کم اجرت کے ساتھ تھرڈ پارٹی ((کمپنی)) کو ساڑھے آٹھ فیصد کمیشن بھی دی جاتی ہے۔ پی اے سی نے ہدایت کی تھرڈ پارٹی کے ذریعے بھرتیاں بند کی جائیں۔ آئندہ کے لئے جس آسامی کے لئے ضرورت ہے، اخبار میں اشتہار دے کر براہ راست بھرتی کا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جس نے بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے لئے یہ فیصلہ کیا اس نے غلط کیاہے۔ ایم ڈی سوئی سدرن نے بتایا کہ ان کے ادارے میں بھی 4 ہزار سے زائد ایسے ملازمین ہیں جومسلسل 15 سالوں سے تھرڈ پارٹی کے ذریعے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان مین سے کسی ملازم کو نہیں نکالا گیا اور تھرڈ پارٹی کو 8 فیصد کمیشن بھی دی جارہی ہے۔ اس پر پی اے سی نے برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ ملازمین کو مستقل کرکے تھرڈ پارٹی کو کمیشن کی ادائیگی سے نجات حاصل کی جائے۔

پی اے سی نے پٹرولیم ڈویژن کے تمام ماتحت اداروں میں تھرڈ پارٹی ادائیگیوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایاکہ او پی ایف سکول پشاور،، کوئٹہ،، ملتان اور گجرات میںتعمیر اور اسلام آباد زون میں واٹر سورس سکیم کے لئے وزارت سمندر پار پاکستانییز نے سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی قائم نہیں کی۔ پی اے سی نے کہاکہ اچھے منصوبے ہیں، آئندہ کسی قسم کی بے قاعدگی نہ کی جائے ۔ پی اے سی کو بتایاکہ گیا کہ یہ تمام منصوبے مکمل کرلئے گئے ہیں۔ پی اے سی نے یہ معاملہ نمٹا دیا۔ پی اے سی نے 2012-13ء کے آڈٹ اعتراضات ذیلی کمیٹی کے سپرد کردیئے جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے آڈٹ اعتراضات آئندہ اجلاس تک ملتوی کردیئے گئے۔