نظریہ پاکستان فاونڈیشن سندھ کے زیراہتمام علامہ اقبال کے حوالے سے پروگرام

منگل اپریل 21:29

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) نظریہ پاکستان فاونڈیشن سندھ کے زیراہتمام مقامی اسکول میں علامہ اقبال کے حوالے سے پروگرام منعقد ہوا۔جس کے تقریب کے مہمانِ خصوصی نظریہ پاکستان فاونڈیشن سندھ چیرمین میاں عبدالمجیدتھے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اور قائداعظم نظریہ پاکستان کے بارے میں متفق اور یکسو تھے۔ علامہ اقبال نے اپنے لافانی اور یادگار خطبہ الہ آباد 1930ء میں نظریہ پاکستان کے بارے میں فرمایا کہ مسلمان چوں کہ ہندوئوں کی سیاسی سماجی اور معاشی بالادستی کے تحت رہ کر اپنی خداداد صلاحیتوں کے مطابق ترقی نہیں کرسکتے لہٰذا ایک آزاد ریاست ان کا مقدر ہے جس میں ہر شہری کو بلاتفریق اور بلاامتیاز ترقی کرنے کے مساوی مواقع مل سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے 23مارچ 1940ء کو اپنے تاریخ ساز خطبے میں علامہ اقبال کے نظریہ پاکستان سے مکمل اتفاق کیا اور ہر شہری کے لیے ترقی کے مساوی مواقع کو نظریہ پاکستان کا بنیادی اور اساسی اٴْصول قرار دیا۔

(جاری ہے)

اگر قیام پاکستان کے بعد مقتدر اشرافیہ نظریہ پاکستان کو ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے استعمال نہ کرتی اور پاکستان کے ہر شہری کو ترقی کرنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جاتے تو آج پاکستان میں مساوی ترقی نظر آتی اور غربت و جہالت کے جزیرے پیدا نہ ہوتے۔

علامہ اقبال اور قائداعظم کا نظریہ پاکستان ہنوز تشنہ تکمیل ہے جس کے لیے منظم، موثر اور فعال عوامی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے نوجوان اگر ’’ہر شہری کو ترقی کے مساوی مواقع‘‘ کو اپنا مشن بنا لیں تو آزادی کا خواب پورا کیا جاسکتا ہے۔اس موقع پر طارق سعود افشاں شیخ، راحیلہ مسرور، غضنفرعلی،بشریٰ احسان اودیگر نے بھی خطاب کیا۔