پاکستان میں ہر سال 53ہزار سے زائد بچے دست و سہال کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ،صوبائی وزیرصحت

دنیا میں پاکستان ،انڈیا اور نائیجریا کے بعد تیسراملک ہے جس میں بچوں میں دست و اسہال کی وجہ سے موت کی شرح سب سے زیادہ ہے،میر عبدالماجد ابڑؤ

بدھ اپریل 20:48

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) صوبائی وزیرصحت میر عبدالماجد ابڑؤ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 53ہزار سے زائد بچے دست و سہال کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں دنیا میں پاکستان ،،انڈیا اور نائیجریا کے بعد تیسراملک ہے جس میں بچوں میں دست و اسہال کی وجہ سے موت کی شرح سب سے زیادہ ہے اسی بنیاد پر روٹا ویکیسین کو دیگر بیماریوں کے خلاف استعمال ہونے والی ویکسینز کی طرح ای پی آئی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے ،،ڈاکٹر مسیحا کی حیثیت رکھتے ہیں انکی ہڑتال کے باعث غریب عوام کو مشکلات پیش آتی ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ہڑتالوں سے گریز کریں حکومت دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے ڈاکٹروں اوردیگر ملازمین کے مسائل حل کرنے کیلئے بھر پور اقدامات کر رہی ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو روٹا وائرس ویکسین کی ای پی آئی پروگرام میں شمولیت کے موقع پر مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی تقریب سے سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان صالح محمد ناصر ، ایڈیشنل سیکرٹری روف ، ڈی جی ہیلتھ بلوچستان ڈاکٹر شاکر بلوچ ، ڈاکٹر طاہرہ ، ڈاکٹراسحاق پانیزئی ،پروفیسر عبداللہ جان ناصر اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہا کہ ای پی آئی پروگرام کو چھ متعدی بیماریوں کی روک تھام کی ذمہ داری سونپی گئی مگر وسعت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آج ای پی آئی پروگرام میں 10مہلک بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکہ جات کے ساتھ ساتھ ان بیماریوں کی موثر نگرانی اور وبائی صورت حال کو قابو میں رکھنے کیلئے عملی اور موثر اقدامات کئے جارہے ہیں جس کی بدولت ان بیماریوں پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روٹا وائرس دست یا اسہال کی بیماری ہے جو کہ روٹا وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے روٹا وائرا نسانی انتڑیوں پر اثر انداز ہوتا ہے جوکہ دست اور اسہال کی وجہ بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ دست و سہال ہے جس سے ہر سال 53300بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں دنیا میں پاکستان ،،انڈیا اور نائیجریا کے بعد تیسرا ملک ہے جس میں بچوں میں دست و اسہال کی وجہ سے موت کی شرح سب سے زیادہ ہے اسی بنیاد پر روٹا ویکسین کو دیگر بیماریوں کے خلاف استعمال ہونے والی ویکسینز کی طرح ای پی آئی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ روٹا وائرس ویکسین سے ہمارے مستقبل کے معماروں کی زندگیاں اس جان لیوا بیماری سے بچ سکتی ہیں ہم اپنی طرف سے ای پی آئی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں۔ میر عبدالماجد ابڑو نے کہا کہ صوبائی حکومت بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کارلارہی ہے حکومت کی جانب سے اب تک ای پی آئی پروگرام کو 13ارب روپے جاری کئے جاچکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں میر عبدالماجد ابڑو نے کہا کہ ڈاکٹر مسیحا کی حیثیت رکھتے ہیں انکی ہڑتال کے باعث غریب عوام کو مشکلات پیش آتی ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ہڑتالوں سے گریز کریں حکومت دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے ڈاکٹروں اوردیگر ملازمین کے مسائل حل کرنے کیلئے بھر پور اقدامات کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ابتک ڈینگی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

ڈی جی ہیلتھ بلوچستان ڈاکٹر شاکر بلوچ اور ڈاکٹر اسحاق پانیزئی نے کہا کہ ای پی آئی پروگرام صوبے میں بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ای پی آئی ،یونیسف اور گاوی پروگرام نے کے دور دراز علاقوں میں ویکسین کو محفوظ بنانے کیلئے کولڈ روم بنائے ہیں اور 30اضلاع میں 426سولر سسٹم فراہم کئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں اب ویکسین کے خراب ہونے کا اندیشہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح ویکسینیٹرز کو 884موٹرسائیکلیں اور مختلف ڈسٹرکٹ کیلئے 21گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ ای پی آئی پروگرام میں 309نئے ویکسینیٹرز بھرتی کئے جارہے ہیں جس سے ای پی آئی پروگرام کی کارکردگی مزہد بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ویکسینیٹرز اور محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ بھر پور تعاون کریں تاکہ کل کے بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچایا جاسکے۔