سپریم کورٹ نے زلزلہ زدگان کیلئے فنڈ ز کے ا ستعمال کے حوالے سے کیس میں ملکی اورغیرملکی فنڈز کی تفصیلات طلب کرلیں

بتایا جائے کہ زلزلہ متاثرین کیلئے کل کتنے فنڈز آئے اوران کاکیا بنا ، یہ فنڈز کہاں استعمال ہوئے ، بٹ گرام شہر کاکیا بنا ، کیا نیا شہر تعمیر ہوا یا غیر ملکی امداد قومی خزانے میںجمع کی گئی ، ایرا نے متاثرین کیلئے کیا کچھ کیا ،ْججز کے ریمارکس زلزلہ کے بعد بین الاقوامی متاثرین کیلئے امدادی کانفرنس میں 3.6بلین ڈالراکٹھے ہوئے تھے ،ْایراکے نمائندے کا بیان

بدھ اپریل 23:26

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے زلزلہ زدگان کیلئے فنڈ ز کے ا ستعمال کے حوالے سے کیس میں ملکی اورغیرملکی فنڈز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ بتایا جائے کہ زلزلہ متاثرین کیلئے کل کتنے فنڈز آئے اوران کاکیا بنا ، یہ فنڈز کہاں استعمال ہوئے ، بٹ گرام شہر کاکیا بنا ، کیا نیا شہر تعمیر ہوا یا غیر ملکی امداد قومی خزانے میںجمع کی گئی ، ایرا نے متاثرین کیلئے کیا کچھ کیا۔

بدھ کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں جسٹس عمرعطابندیال اورجسٹس اعجازالاحسن پرمشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔اس موقع پرایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقار نے پیش ہوکرعدالت کوبتایا کہ عدالت نے اس اہم معاملے میں وضاحت کیلئے سیکرٹری فنانس اور آڈیٹر جنرل کو بلایا تھا، جوعدالت میں موجود ہیں ، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ پہلے ہمیں یہ بتایا جائے کہ زلزلہ سے متاثرہ شہر بالا کوٹ کا کیا بنا،کیا نیا بالاکوٹ تعمیرہوگیا ہے، یا غیر ملکی امداد قومی خزانے میں ڈال دی گئی، جس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈزکیلئے مختص ہونے والی رقم وزارت خزانہ جاری کرتی ہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ زلزلے کے بعد مخیر حضرات نے متاثرین کی بحالی کیلئے فنڈز دئیے تھے جبکہ غیر ملکی امداد بھی پاکستان آئی تھی ،بتایا جائے کہ ان تمام فنڈز کا کیا بنا ، اورمجموعی طور پر متاثرین کے لیے کتنی امداد آئی تھی ، یہاں توزلزلہ متاثرین کیلئے آنے والے کمبل بھی فروخت کئے گئے، سماعت کے دورا ن وزارت خزانہ کے حکام نے عدالت کوبتایا کہ متاثرین کیلئے بیرون ملک سے 2.89بلین ڈالر امداد آئی، تاہم پاکستانیوں کی جانب آئی امداد ہمارے پاس نہیں ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ایرا کے مطابق سارے فنڈز وفاقی حکومت کے پاس آئے تھے ۔

(جاری ہے)

زلزلہ زدگان کیلئے آنے والے فنڈز کے ذریعے ایرا نے صرف منصوبوں پرعمل کرناتھا ہمیںمعلوم ہوناچاہیے کہ امداد کی مدمیں مجموعی طور پر کتناپیسہ جمع ہوا ، سماعت کے دورا ن درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ زلزلہ کے بعد بین الاقوامی متاثرین کیلئے امدادی کانفرنس میں 3.6بلین ڈالراکٹھے ہوئے تھے،ایرا کے اکائونٹ میں 85ارب روپے موجود تھے جمع ہونے والے فنڈز سے 55ارب روپے بی آئی ایس پی کے اکائونٹ میں شامل کئے گئے لیکن یہ فنڈز زلزلہ متاثرین کی امداد پر خرچ نہیں ہوئے ،میری استدعا ہے کہ ترقیاتی فنڈز کاآڈٹ ضرور ہوناچا ہئے ، زلزلہ کے بعد ڈونرایجنسیوں نے 5بلین ڈالر نقصان ہونے کاتخمینہ لگایا تھا ، عدالت کوایرا کے نمائندے نے بتایا کہ پلاننگ کے تحت ایرا نے 14ہزار7سومنصوبوں پرکام.کرناتھا چیف جسٹس نے کہاکہ آج تک 290.85بلین روپے ایرا کو موصول ہوئے ہیں ، جس پرایراکے نمائندے نے بتایا کہ اب تک ایرا 10ہزار5سو89منصوبے مکمل کرچکاہے ، جس پرچیف جسٹس نے ان سے کہا کہ جس نے فنڈز دیئے ہیں عدالت ان کوبھی بلائے گی ہمیں بتایا جائے کہ ایرا نے اب تک زلزلہ متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے کیا کچھ کیا ہے وہاں توصرف اپنے رشتہ داروں کوبھرتی کیاگیا بتایا جائے کس کس کے رشتہ داروں کوبھرتی کیا گیا ، وہاں پر جنرل بھی ڈیپوٹیشن پر آئے۔

میں نے فیصلہ کیا ہے کہ خود بالاکوٹ جاکرصورتحال کاجائزہ لوں ، ہم اپنے خرچے پر جاکرزلزلہ سے متاثرہ علاقوں کادورہ کریں گے، اور وہاں اب تک ایرا اور دیگر محکموں کی کارکردگی ،بحالی و آبادکاری کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیں گے ، سماعت کے دورا ن چیف جسٹس نے عدالت میں موجود چیرمین ایرا سے استفسارکیا کہ بریگیڈیئر صاحب زلزلہ زدگان کے لیے جو شیلٹر بنائے گئے ہیں کیا آپ وہاں رہ سکتے ہیں جس پرچیرمین ایرا نے کہاکہ میں 23 ہزار فٹ کی بلندی پر رہ چکا ہوں، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ بے شک پہلے آٰپ رہ چکے ہوں گے، لیکن اب توآپ سرینا میں رہائش اختیار کرتے ہوں گے، پتہ کیا جائے کہ کوئی پرائیویٹ ہیلی کاپٹر کا بندوبست ہوسکتاہے ہم بالاکوٹ جاکر عام لوگوں کی طرح رہیں گے۔