صنعتوں کے لئے بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کی جائے، آل پاکستان بزنس فورم

جمعرات اپریل 14:50

صنعتوں کے لئے بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کی جائے، آل پاکستان بزنس ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) آل پاکستان بزنس فورم نے کہا ہے کہ صنعتوں بالخصوص برآمدی صنعت کے لئے بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کی جائے۔ جمعرات کو اپنے ایک بیان میں آل پاکستان بزنس فورم کے صدر ابراہیم قریشی نے کہا کہ ٹیرف میں اضافہ کے نتیجہ میں برآمدی صنعت کی کاروباری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات مینوفیکچرنگ سیکٹر کی نمو میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی مشینری ہمیشہ نجی شعبہ کو اپنے بیڑے میں شامل کرنے کی خواہاں ہوتی ہے لیکن وہ کسی بھی تجارتی و صنعتی ادارے کے ساتھ فیصلہ کرتے وقت مشاورت نہیں کرتی۔ آل پاکستان بزنس فورم کے صدر نے کہا کہ یہ اقدام غربت کے خاتمے اور اقتصادی بحالی کے تجویز کردہ پلان کے خلاف ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کے لئے اوسط الیکٹرسٹی ٹیرف خطے میں 10 سینٹ سے کم ہے جبکہ پاکستان میں یہ 14.4 سینٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو پہلے ہی امن و امان کی خراب صورتحال، ٹیکسوں میں عدم توازن اور گیس کی سپلائی میں کمی اور اب پاور ٹیرف میں اضافہ کا سامنا ہے جس سے ریونیو اور برآمدات مزید متاثر ہوںگے۔ انہوں نے کہا کہ سی پی پی اے نے مارچ کے مہینے کے لئے ریفرنس فیول چارجز 6.65/kWh پر 0.4437/kWh اضافہ تجویز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کے لئے بجلی کے اوسط نرخوں میں 45 پیسے فی یونٹ کا اضافہ صارفین پراضافی بوجھ ڈالے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملکی تجارتی خسارہ مزید بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل پیکیج اتنا موثر ثابت نہیں ہوا اور پنجاب کی برآمدی صنعت پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے جس کو کاروباری لاگت جیسے اضافہ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے کاروبار دوست اقدامات سے صنعت کو فروغ دیا جا سکتا ہے جس سے اس کی پیداوار بڑھے گی اور متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ اہم فیصلہ کرتے وقت شراکت داروں سے مشاورت کو یقینی بنائیں۔

ابراہیم قریشی نے کہا کہ موثر اقدامات نہ کئے گئے تو ہماری صنعت تیزی سے بند ہونے کی طرف جاسکتی ہے جس کی بنیادی وجہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک بھر میں بجلی اور گیس کی قیمتوں کے حوالے سے یکساں پالیسی اپنائے کیونکہ یوٹیلٹیز کی قیمتوں میں تضاد کے باعث پنجاب کی صنعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔