نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ فیسوں میں اضافے پر چیف جسٹس سوموٹو لیں،ولی اللہ خان

جمعرات اپریل 22:02

نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ فیسوں میں اضافے پر چیف جسٹس سوموٹو لیں،ولی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ کی فیسوں میں ہوشربا اضافہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ حکومتی ادارے عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لئے قائم کئے جاتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ نادرا کی پرائیویٹائزیشن کردی گئی ہے اور اس کا مقصد عوام کو شناختی کارڈ دینے کہ بجائے منافع کمانا رہ گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ولی اللہ صدر ایس ایم ای فاؤنڈیشن نے نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ فیسوں میں اضافے کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے کیا۔

ولی اللہ نے کہا اچانک سو فیصد تک اضافہ عوام خصوصاً غریب عوام کے ساتھ ایک ظلم ہے۔ نارمل شناختی کارڈ کی فیس جو 200 روپے تھی وہ یک جنبش قلم 400 کردی گئی اور کوئی پوچھنے والا نہیں کہ یہ اضافہ کیوں کیا گیا۔

(جاری ہے)

اسی طرح اگر کسی کو مجبوری میں فوری طور پر شناختی کارڈ کی ضرورت ہو تو اس کی فیس بھی 1600 سے بڑھا کر 2500 کردی گئی ہے۔ ایک طرف فیسیں تو ایسے لی جارہی ہیں جیسے نادرا کوئی سرکاری محکمہ نہیں بلکہ کارپوریٹ ادارہ ہے دوسری جانب عوام کی سہولت کا کوئی انتظام نہیں۔

ہر شناختی کارڈ آفس کے باہر لوگوں کا ہجوم چلچلاتی دھوپ میں اپنی باری کا انتظار کرتا پایا جاتا ہے اور جب باری آئے تو ان کو کسی نا کاغذ کی کمی کے نام پر واپس کردیا جاتا ہے۔ ویب سائٹ پر ڈیٹیل کا ایسے بتایا جاتا ہے جیسے پاکستان میں سو فیصد لوگ خواندہ ہیں اور کمپیوٹر انٹرنیٹ دستیاب ہے۔ولی اللہ نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا حالیہ اضافہ فی الفور واپس لیا جائے۔

عوام پہلے ہی غربت مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں انکے مسائل میں مزید اضافہ نا کیا جائے۔ ولی اللہ نے چیف جسٹس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کا سوموٹو لیں اور ذمہ داروں سے بازپرس کی جائے کہ یہ اضافہ کیوں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای فاؤنڈیشن غریب اور محروم طبقے کے لئے جدوجہد کرتی رہی ہے اور ج ہمیشہ غریب اور پسماندہ طبقہ کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتی رہے گی۔